جہلم میں جان بچانے والی ادویات کی قلت، میڈیکل سٹور مالکان نے ادویات غائب کر دیں

0

جہلم: ضلع بھر میں جان بچانے والی ادویات کی قلت میڈیکل سٹور مالکان نے ادویات غائب کر دیں، مریضوں اور ان کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہر سمیت ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں جان بچانے والی ادویات ناپید ہو چکی ہیں، ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ادویات کی عدم دستیابی متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ادویات کی 18 سے 20 فیصد تک قیمتیں بڑھنے کے باوجود میڈیکل سٹوروں پر دستیاب نہیں۔

دمہ کے مریضوں کیلئے ان ہیلر دستیاب ہیں نہ ہی شوگر کے مریضوں کیلئے انسولین، اینٹی بایوٹکس، اسکن انفیکشن ، ڈائریا، پیٹ درد، بلڈ پریشر اور بخار کی دوائیں بھی دستیاب نہیں۔ ضلعی ہیڈ کواٹر سمیت چاروں تحصیلوں میں ادویات کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، ادویات کی قلت کے ساتھ ساتھ دستیاب ادویات کی قیمتیوں میں بھی 18 سے 20 فیصد تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

شہر اور چاروں تحصیلوں میں دمہ کے مریضوں کیلئے ان ہیلر دستیاب ہیں نہ ہی شوگر کے مریضوں کیلئے انسولین، اس کے علاوہ اینٹی بایوٹکس، اسکن انفیکشنز، ڈائریا، بلڈ پریشر اور بخار کی دوا میں بھی نا پید ہو چکی ہے۔

دوسری جانب شوگر، معدے کی تیزابیت، امراض قلب، اینٹی بایوٹکس دواؤں کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا، شوگر کی دوائی 219 سے بڑھا کر 258 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے جبکہ معدے کی تیزابیت اور جلن کی دوا کی قیمت 606 روپے سے بڑھا کر 714 روپے میں فروخت کی جارہی ہے، دل کے امراض کی دوا 140 روپے کی بجائے اب 165 روپے میں دستیاب ہے۔

شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.