جہلم کے شہریوں میں گلہڑ اور نوزائیدہ بچوں میں ذہنی و جسمانی بیماریوں میں اضافہ

0

جہلم: انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث آئیو ڈین کے بغیر کھلے نمک کی فروخت جاری،گلہڑ کے علاوہ بچوں نوزائیدہ بچوں میں ذہنی و جسمانی بیماریوں میں اضافہ، شہر کے دیہی علاقوں میں بڑوں میں گلہڑ اور بچوں میں ذہنی و جسمانی بیماریاں عام ہونے لگیں۔

حال ہی میں پنجاب حکومت کی طرف سے جہلم سمیت صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں بغیر آئیوڈین نمک فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی مگر محکمہ صحت اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران کی طرف سے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے تاحال بازاروں، دکانوں، مارکیٹوں میں فروخت ہونیوالے نمک میں آئیوڈین کی مقدار 10 فیصد سے بھی کم ہے۔

قوانین کے مطابق نمک میں آئیوڈین کی مقدار30فیصد ہونی چاہئے۔ ایک انسان کو دن میں 150 مائیکرو گرام جبکہ حاملہ خواتین میں 200 مائیکرگرام آئیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے مگر آئیوڈین کی کم مقدار پیدا ہونے والے بچوں میں دماغی کمزوری اور مختلف جسمانی امراض کی شرح انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اندرون شہر نمک پیسنے والی چکیوں سے نمونہ جات حاصل کر کے تجزیہ کیلئے لیبارٹریوں میں بھجوائے گئے ہیں جن کے نتائج آنے کے بعد ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے سمیت چکیاں بھی سیل کی جا سکیں گی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.