آن لائن بینکنگ نظام نے بینکوں کو تالے لگوانا شروع کر دیئے

مانچسٹر: صارفین کی طرف سے موبائل اور آن لائن بینکنگ نظام پر منتقلی نے بڑے بڑے بینکوں کو تالے لگوانا شروع کر دیئے۔
برطانیہ کے معروف بینک نیٹ ویسٹ نے رواں ماہ ملک کے مختلف حصوں میں قائم 18برانچیں بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ نیٹ ویسٹ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی مزید 34 شاخیں مختلف مراحل میں برطانیہ میں مستقل طور پر بند ہو جائیں گی بینک نے سال 2023کے دوران مجموعی طور پر 126مقامات کو تالے لگوا دیئے ہیں۔
ساؤتھمپٹن ، سڈکپ، جنوبی لندن ، ووڈلی، برکشائر ، ساؤتھ گیٹ، شمالی لندن کے میں نیٹ ویسٹ کی شاخوں نے گزشتہ روز اپنے دروازے بند کر دیئے۔ نیٹ ویسٹ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ مزید شاخیں، اسٹالی برج، گریٹر مانچسٹر ، ویسٹ کربی، مرسی سائیڈ، جولائی 2024میں بند ہو جائیں گی۔
نیٹ ویسٹ کے ترجمان نے کہابہت سی صنعتوں کی طرح ہمارے زیادہ تر صارفین موبائل اور آن لائن بینکنگ کی طرف منتقل ہو رہے ہیں کیونکہ لوگوں کیلئےاپنی مالی زندگی کو سنبھالنا تیز اور آسان ہے۔
ترجمان کا کہناتھا کہ ہم سمجھتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل حل ہر ایک یا ہر صورتحال کیلئے درست نہیں ہے۔ جب ہم شاخیں بند کرتے ہیں تو ہمیں یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ کوئی پیچھے نہ رہے،خطرناک حد تک زیادہ تعداد میں ہائی اسٹریٹ بینکوں کی بندش نے بینکوں پر بوڑھوں اور ضروری خدمات سے کمزور افراد کو محروم کرنے کا الزام لگایا ہے۔
قرض دہندگان حالیہ برسوں میں سائٹس پر کمی کر رہے ہیں‘۔یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ زیادہ سے زیادہ صارفین آن لائن بینکنگ کی طرف جا رہے ہیں اور نقدی کا استعمال کم ہو رہا ہے کیونکہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز پر زیادہ لین دین کیے جاتے ہیں۔
ناقدین نے کہا کہ بینک کی شاخوں کو بند کرنا بوڑھے اور کمزور صارفین کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباروں اور ان لوگوں کیلئے بھی انتہائی غیر منصفانہ ہے جنہیں آمنے سامنے مشورہ کی ضرورت ہے۔
چیرٹی ایج یو کے نے بندشوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ شہروں اور قصبوں میں رہنے والے صارفین بھی محفوظ نہیں ہیں۔
ڈائریکٹر کیرولین ابراہمس نے کہا کہ اپنے پیسے کا انتظام کرنے کے قابل ہونا آپ کی عمر کے ساتھ آزادانہ طور پر زندگی گزارنے کی کلید ہے لیکن ڈیجیٹل بینکنگ کی طرف بڑھنے کا مطلب ہے کہ لاکھوں بوڑھے لوگ اس سے محروم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف اس وجہ سے کہ وہ کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے ہیں وہ بالکل آن لائن نہیں بلکہ اپنے مالی معاملات کو خود منظم کرنے کے قابل ہیں یہ سراسر ناانصافی ہے کہ انہیں اس طرح خوار کیا جا رہا ہے اور منافع کے حصول میں ان کے جائز مفادات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔



