فواد چوہدری سانحہ 9 مئی سے متعلق درج مقدمات کی تفتیش کیلئے حکام کے سامنے پیش

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو لاہور میں 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے درج 8 مقدمات میں شامل تفتیش کرلیا گیا جبکہ 5 مقدمات میں انہوں نے پیش ہو کر جوابات جمع کرادیے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اپنے وکلا کے ہمارا ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ہیڈ کوارٹرز پہنچے جہاں وہ مذکورہ مقدمات میں شامل تفتیش ہوئے اور اپنے جوابات جمع کروائے۔
پولیس ذرائع کے مطابق فواد چوہدری کو 9 مئی کے اہم مقدمات میں شامل تفتیش کیا گیا ہے، مقدمات کی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان کے بیانات کی روشنی میں فواد چوہدری کو شامل تفشیش کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے بیانات میں فواد چوہدری کے واقعات میں ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے، انہوں نے تمام مقدمات میں عبوری ضمانت کروا رکھی ہے۔
فواد چوہدری کو لاہور کے تھانہ سرور میں درج مقدمہ 97/23، ماڈل ٹاؤن میں درج مقدمہ 366/23 اور سرور روڈ کے مقدمہ 103/23 میں بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ فواد چوہدری پر تقریر کرکے لوگوں کو اکسانے کا الزام ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹاؤن مقدمے میں جواب جمع کروادیا گیا اور دیگر مقدمات میں الزامات سامنے آئیں گے تو اس کا جواب بھی جمع کروایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر الزام ہے کہ میں نے مجمعے میں تقریر کرکے لوگوں کو اکسایا جبکہ میں 10 مئی کو اسلام آباد میں پولیس حراست میں تھا اور اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو احمقانہ قرار دیا۔
انوسٹی گیشن ہیڈ کوارٹر زمیں شامل تفتیش ہوتے وقت فواد چوہدری کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
خیال رہے کہ دو روز قبل لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی 36 مقدمات میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست پر سماعت کی تھی، سماعت کے دوران فواد چوہدری کے وکیل نے کہا تھا کہ ہم پورے پنجاب کی عدالتوں میں پیش نہیں ہو سکتے۔
چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ کتنے ضلعوں میں مقدمات درج ہیں؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ نے بتایا کہ 4 ڈویژنز میں مقدمات درج ہیں۔
چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیے کہ ایک بندے کے خلاف 36 کیس ہیں، وہ کیسے بیک وقت تمام عدالتوں میں پیش ہو سکتا ہے ؟ اس پر فواد چوہدری نے کہا کہ کل 47 کیس ہیں میرے خلاف۔
یاد رہے کہ پیر کو فواد چوہدری نے 36 مقدمات میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست دائر کی تھی، اس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ فواد چوہدری کے خلاف پنجاب بھر میں 36 مقدمات درج ہیں، اس میں استدعا کی گئی کہ عدالتوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فواد چوہدری کی 9 مئی کے 4 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور تھی جب کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ان کی جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) حملہ سمیت سانحہ 9 مئی کے 14 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کی تھی۔



