حکومت نے تاجروں اور دکانداروں پر نیا ٹیکس بم پھوڑ دیا، دکاندار اور ٹریڈ تنظیمیں سراپا احتجاج

جہلم: حکومت نے تمام کیٹیگریز کے تاجروں اور دکانداروں پر نیا ٹیکس بم پھوڑ دیا، نئے ٹیکسوں کا سرکلر بھی جاری دیا گیا جس سے تمام چھوٹے بڑے بازاروں کے دکاندار ٹریڈ تنظیمیں سراپا احتجاج بن گئیں، تاجروں نے ہائیکورٹ چیلنج کرنے اور بڑی تعداد میں دکانداروں نے دکانیں خالی کر کے کاروبار منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے پنجاب کے دوسرے شہروں کی طرح جہلم کے تمام بازاروں میں کاروبار کرنے والے دکانداروں کی ماہانہ اور سالانہ آمدن کی از خود اسسمنٹ کی ہے اور بھاری آمدن ٹیکس لگا دیئے ہیں۔
حکومتی افسران کے مطابق شاندار چوک، نیا بازار ،تحصیل روڈ ،ریلوے روڈ ،اولڈ جی ٹی روڈ ،سول لائن روڈ کے تمام فوڈ، الیکٹرانکس، گارمنٹس گوشت چکن شاپس، درزی موچی، تنور قلفی فروش تمام کیٹگریز کے دکاندار ماہانہ 3 لاکھ 60 ہزار روپے، سالانہ 22 لاکھ 33 ہزار روپے کماتے ہیں ان پر ماہانہ 60 ہزار روپے ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔
مرکزی انجمن تاجراں کے عہدیداران نے مذمت کرتے کہا کہ حکومت نے عوام کا کچومر نکالنا شروع کر رکھا ہے اس سے کاروبار ٹھپ ہو جائیں گے، کرائم میں اضافہ ہوگا، دکانوں سے ملازمین برطرف ہوں گے نافذ ٹیکس فوری واپس لیا جائے۔
انجمن تاجراں سبزی منڈی کے عہدداروں نے کہا کہ اسے ہائی کورٹ چیلنج کریں گے، الیکٹرانک یونین کے عہدیداران نے کہا کہ حکومت ایک ہی دفعہ دکانداروں کو قتل کر دے، ہم یہ ٹیکس نہیں دیں گے۔
گارمنٹس ٹیلرنگ کا کا روبار کرنے والے دکانداروں نے کہا کہ وہ دکانیں ختم کر رہے ہیں، گھر میں ہی کام کریں گے، آمدن ختم ہو چکی ہے، مزید ٹیکس بجلی گیس کے بل ادا نہیں کر سکتے۔



