آئینی ترامیم، حکمرانوں کی بادشاہت قائم نہیں ہونے دی جائے گی، قاسم کھرل

گریٹر مانچسٹر / بولٹن: تحریک انصاف برطانیہ کے مرکزی رہنما ملک محمد اشفاق اعوان اور سیالکوٹ سے تحریک انصاف کے سابق امیدوار اسمبلی محمد قاسم کھرل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے خلاف جنگل کا قانون نہیں چلنے دیا جائے گا۔ پاکستان کی بقا کیلئے سپرپاور سے ٹکرانے والی قوم زرداریوں اور شریفوں سے ٹکرا جائے گی قوم کو موجودہ حکومت کی ضد قبول نہیں اورنہ ہی ایسی ترمیم جس سے ان کی بادشاہت قائم ہو۔

انہوں نے کہا کہ نیا چیف جسٹس لگانے کا مقصد دراصل اپنی حکمرانی کو قائم کرنا ہے لیکن ان کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ نئے چیف جسٹس کی نامزدگی کے باوجود حالات کیا رخ اختیار کریں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ کٹھ پتلی حکومت نے اپنے وزیروں کیلئے تمام مراعات فراہم کیں جبکہ عام آدمی کے حالات خراب ہوتے چلے گئے۔ حالات سے مایوس ہو کر تقریباً 12 لاکھ سے زائد نوجوان ملک چھوڑ چکا ہے۔

انہوں نے کہا موجودہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں سے ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے ایک بار پھر مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے قبل والے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ خلائی مخلوق کا ایک خفیہ گروہ عوام کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے جس سے سازشی نظریات کو پنپنے کا موقع مل رہا ہے ایسے حالات میں عوام کا جمہوری اداروں پر سے اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا اب بھی وقت ہے کہ صحافیوں اہل قلم وکلا اور ہرشعبہ زندگی کے لوگوں کو موجودہ حکمرانوں کے اقدامات بھرپور احتجاج کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ایک بار پھر دہشت گردی اپنے عروج پر ہے جس سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ چاروں صوبوں میں قانونی اداروں کو پامال کیا جا رہاہے۔ ترمیم کی منظوری سے قبل جس طرح لوگوں کو اغوا کیا گیا اراکین پارلیمنٹ کی فیملیوں بچوں بزرگوں اور دیگر عزیز و اقارب کو نامعلوم مقام پر لے جر تشدد کیا گیا چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا ۔اس پر حکومت اور اس کے اتحادیوں کو ندامت محسوس کرنی چاہئے۔ پاکستان کے آئین اور قانون کو جس طرح روندا جا رہا ہے اس کی مثال دنیا کی کسی بھی تاریخ میں نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف آئندہ دو دنوں میں جاتی امرا کی سنیاس چھوڑ کر امریکی اور برطانوی سنیاس اختیار کرنے والے ہیں وہ پاکستان سے اپنے آقاؤں کی سلامی کیلئے امریکہ جائیں گے اور 4 نومبر کو واپس برطانیہ پہنچیں گے اور لندن پلان ٹو پر باقاعدگی سے کام شروع کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button