گزشتہ سال کی نسبت رواں سال پاکستان میں پولیو مریضوں کی تعداد 59 ہو گئی ہے، ڈاکٹر سلیمان

دینہ: ڈپٹی کمشنر جہلم محمد میثم عباس اور سی ای او محکمہ صحت جہلم کی ہدایت پر رورل ہیلتھ سینٹر دینہ میں پولیو کے حوالے سے میٹنگ ہوئی۔

انچارج رورل ہیلتھ سینٹر دینہ ڈاکٹر سلیمان نے میٹنگ میں کہا کہ پچھلے سال کی نسبت اس سال پاکستان میں پولیو مریضوں کی تعداد 59 ہو گئی ہے جو کہ اچھا شگون نہیں۔ تمام پولیو ورکرز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اپنی تمام یونین کونسل میں جہاں بھی کہیں پولیو کے ڈراپ پینے کے انکاری لوگوں کی نشاندہی کریں۔

انہوں نے کہا کہ والدین کو ہر صورت اس بیماری کے متعلق آگاہ کریں اور جیسے بھی ممکن ہو تمام بچوں تک پولیو کے قطرے پلانے کا مشن جاری رکھیں۔ لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے۔ اس سلسلے میں ہم میری تمام تر خدمات تمام سٹاف کو اہل علاقہ کو ہر وقت میسر ہوں گی کیونکہ صحت مند معاشرہ ہی ہماری پہچان ہے۔

ڈاکٹر سلیمان نے بتایا کہ پولیو ایک خطرناک ترین بیماری ہے، اس سے انسان عملی زندگی میں شدید دشواری محسوس کرتا ہے۔ محکمہ صحت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں 59 کیس ہوچکے ہیں۔ اللہ کے فضل سے ضلع جہلم تاحال محفوظ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرون ممالک سے آنے والے بچوں کی وجہ سے بھی پولیو میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پولیو کا شکار بچہ جب ٹول پاس کرتا ہے تو ایک حد تک آس پاس کے تمام بچے متاثر ہو سکتے ہیں، لہٰذا پاکستانی ہونے کے ناطے محکمہ صحت کی دی گئی ہدایات پر عمل کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔

میٹنگ میں محکمہ صحت کے تحصیل بھر کے تمام ملازمین سابق کونسلر راجہ ساجد کیانی اور سینئر صحافی جرار میر نے شرکت کی۔ انچارج رورل ہیلتھ سنٹر دینہ ڈاکٹر سلیمان نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی تجویز تھی کہ وطن عزیز کے لیے ہمیں بھی آگاہی مہم میں حصہ لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button