خشک سردی کی لہر؛ جہلم میں مسیحائی کے نام پر لوٹ مار، نجی کلینکس رقم بنانے کی مشینوں میں تبدیل

1
جہلم: خشک سردی کی لہر، ضلع جہلم میں مسیحائی کے نام پر لوٹ مار جاری ہے۔ نجی کلینکس پیسہ بنانے کی مشینوں میں تبدیل ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق خشک سردی کی شدت کے باعث بیماریاں بڑھنے کے ساتھ ہی جہلم شہر سمیت ضلع بھرمیں موجود کلینکس پر رش بڑھ گیا ، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ علاج کرنے والے ڈاکٹر ز مریضوں کی مدد کے بجائے انہیں لوٹنے میں مصروف ہیں۔
معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی فیسیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں اور مریضوں کو غیر ضروری ٹیسٹ اور مہنگی ادویات کے نسخے تھما دیے جاتے ہیں۔ جہلم شہر اور گردو نواح کے علاقوں میں کھلے پرائیویٹ کلینکس شہریوں کیلئے درد سر بن گئے ۔
شہریوں نے بتایا کہ بخار کے علاج کے لیے ایک کلینک کے ڈاکٹر نے 1200 روپے فیس لی اور ساتھ ہی 3000 روپے کی مہنگی دوائیاں تجویز کیں، جو صرف ان کے اپنے میڈیکل اسٹور پر دستیاب تھیں، عوام نے ڈاکٹرز کے اس رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایک شہری نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے۔ کہا، کہ "ڈاکٹر ز کو ہم مسیحا سمجھتے تھے، ان کا مقصد اب مریضوں کو ٹھیک کرنا نہیں بلکہ ان کی جیبیں خالی کردیتے ہیں گویا پیسہ ہی انسان کی اہمیت کا پیمانہ بن گیا ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس استحصال کا نوٹس لیا جائے۔ پرائیویٹ کلینکس کی فیسوں کو کنٹرول کرنے اور ڈاکٹروں کی منافع خوری کو روکنے کے لیے سخت قانون سازی کی جائے تاکہ اتائی ڈاکٹروں کاخاتمہ ہوسکا۔



