حکومت 14 ہزار سے زائد ایجوکیٹرز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کو فوری مستقل کرے، احسان شاکر

جہلم: پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن جہلم کے صدر احسان الٰہی شاکر نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب فوری طور پر صوبے بھر کے 14 ہزار سے زائد سیکنڈری سکول ایجوکیٹرز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کو مستقل کرے۔ ہم گزشتہ 11 برس سے محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دے رہے ہیں، نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا ہے اور بہترین تعلیمی نتائج دیے ہیں، مگر اس کے باوجود ہمیں مستقل نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ 2014 سے 2018 کے دوران بھرتی ہونے والے ESE اور SESE اساتذہ کو مستقل کر دیا گیا، مگر ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت پنجاب یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ ہماری مستقلی سے خزانے پر بوجھ پڑے گا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر ہمیں مستقل کر دیا جائے تو حکومت پنجاب کو مالی فوائد حاصل ہوں گے، کیونکہ اس کے بعد ہماری تنخواہوں سے SSB، GPF، GI اور BF کی کٹوتی شروع ہو جائے گی، جو براہ راست حکومتی خزانے میں جائے گی۔
احسان شاکر نے مزید کہا کہ ہمیں مستقل نہ کرنے سے حکومت پنجاب کو ماہانہ 17 کروڑ 49 لاکھ 21 ہزار 780 روپے اور سالانہ 2 ارب 9 کروڑ 90 لاکھ 61 ہزار 630 روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اگر ہمیں بروقت مستقل کر دیا جاتا تو حکومت پنجاب 21 ارب سے زائد رقم کی بچت کر سکتی تھی، جو دیگر ترقیاتی منصوبوں میں استعمال کی جا سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم پنجاب سے اس حوالے سے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور ہر بار زبانی یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں، مگر عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات زبانی وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی طور پر اقدامات کریں تاکہ ہزاروں ایجوکیٹرز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز بے چینی اور اضطراب سے نکل کر اپنی تدریسی خدمات بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔



