جہلم میں گوشت کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ، سرکاری نرخوں کی دھجیاں اڑائی جانے لگیں

جہلم میں مرغی، بکرے اور گائے کے گوشت کی فروخت سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر جاری ہے، جس سے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں جبکہ دکانداروں نے نرخوں میں اضافے کی ذمہ داری سپلائرز پر ڈال دی ہے۔
جادہ چوک، میجر اکرم شہید روڈ، سبزی و فروٹ منڈی، ڈھوک جمعہ روڈ، بلال ٹاؤن، چونترہ، کالا گجراں اور روہتاس روڈ سمیت مختلف علاقوں میں صارفین کو مقررہ نرخوں سے زائد قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
زندہ مرغی کا سرکاری نرخ فی کلو 445 سے 450 روپے مقرر ہے جبکہ مرغی کا گوشت 597 روپے فی کلو میں فروخت ہونا چاہیے، لیکن مارکیٹ میں یہی گوشت 700 روپے فی 800 گرام کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے، جو صارفین کی جیبوں پر بھاری پڑ رہا ہے۔
مرغی فروش دکانداروں کا کہنا ہے کہ فارم سے مرغی دکان تک پہنچانے والے سپلائرز خود فی کلو 14 روپے اضافی وصول کر رہے ہیں، جس کے باعث دکاندار کو مرغی کا گوشت 700 روپے فی کلو کے قریب پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انہیں مہنگی مرغی فراہم کی جاتی ہے تو وہ سرکاری ریٹ پر فروخت کیسے کر سکتے ہیں؟ دکانداروں کا کہنا ہے کہ منافع سپلائر حضرات کماتے ہیں جبکہ جرمانے دکانداروں کو بھرنے پڑتے ہیں، جو سراسر زیادتی ہے۔
اسی طرح بکرے کے گوشت کا سرکاری نرخ 1600 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن قصاب 2000 سے 2400 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں۔ گائے کے گوشت کی صورت حال بھی مختلف نہیں، جس کا سرکاری ریٹ 800 روپے فی کلو ہے لیکن مارکیٹ میں یہ گوشت 1000 سے 1200 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ منڈی سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور صرف دکانداروں کے خلاف کارروائیوں کی بجائے اصل منافع خور، یعنی سپلائرز کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عوام کی پہنچ میں رہ سکیں۔
دوسری جانب دکانداروں نے بھی ارباب اختیار سے اپیل کی ہے کہ انصاف پر مبنی پالیسی اپنائی جائے اور صرف دکانوں پر چھاپے مارنے کے بجائے نرخ بڑھانے والوں کا اصل تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ ریٹ مستحکم رہیں اور عوام کو ریلیف مل سکے۔



