جہلم: شناخت اور شناختی کارڈ تبدیل کر کے روپوش ہونے والا قتل کا ملزم چار سال بعد گرفتار

جہلم پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے اپنی شناخت اور شناختی کارڈ تبدیل کر کے روپوش ہونے والے قتل کے ملزم کو چار سال بعد گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) جہلم طارق عزیز سندھو کی زیر قیادت جہلم پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مسلسل متحرک ہے۔ حالیہ کارروائی میں تھانہ چوٹالہ کے اے ایس آئی عبدالرؤف افضل نے چار سال سے روپوش قتل کے اشتہاری ملزم کو ٹیکنیکل طریقے سے گرفتار کر کے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
چار سال قبل تھانہ چوٹالہ جہلم میں درج ایک مقدمے میں ملزم حافظ زوہیب عرف زیبی سکنہ دریالہ نے قتل کی واردات کے بعد اپنی شناخت اور شناختی کارڈ تبدیل کر کے روپوشی اختیار کر لی تھی۔ ملزم کو اشتہاری قرار دے دیا گیا تھا۔
ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے اس کیس کو حل کرنے کی ذمہ داری اے ایس آئی عبدالروف کو سونپی۔ ایس ایچ او تھانہ چوٹالہ اسد علی ابوبکر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اے ایس آئی عبدالروف نے دن رات محنت اور اپنی پیشہ وارانہ مہارت کا استعمال کرتے ہوئے صرف 20 دنوں میں ٹیکنیکل بنیادوں پر ملزم کا سراغ لگایا اور اسے چکوال کے علاقے ڈھڈیال سے گرفتار کر لیا۔
ملزم کی گرفتاری کے بعد مقدمہ کے مدعی عمران سرور کی جانب سے اے ایس آئی عبدالروف افضل کے لیے خصوصی ایوارڈ کا اعلان کیا گیا۔ ڈی پی او جہلم کی ہدایات پر ڈی ایس پی صدر کاشف ریاض خان، ایس ایچ او اسد علی ابوبکر کے ہمراہ مدعی مقدمہ کی طرف سے یہ ایوارڈ اے ایس آئی عبدالروف کو پیش کیا گیا۔
اس شاندار کامیابی پر اہل علاقہ نے پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے جہلم پولیس اور ڈی پی او طارق عزیز سندھو کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ عوامی و سماجی حلقوں نے کہا کہ پنجاب پولیس میں موجود ہونہار اور محنتی نوجوان افسران معاشرے کا سرمایہ اور فخر ہیں، جن کی بدولت مختلف تھانوں میں پولیس فورس اپنی ذمہ داریاں بخوبی سرانجام دے رہی ہے۔



