دانش مندی یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق بسر کریں، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ آج کے دور میں ہم جس قدر دین پر بحث کرتا ہے، اسی قدر اسے دانش مند تصور کر لیتے ہیں، حالانکہ یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ اصل دانشمندی اور عقل مندی وہی ہے جو دین اسلام کے تابع ہو کیونکہ عقل اور دانش بھی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ جسے چاہے عنایت فرماتا ہے۔
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے جامع مسجد الاخوان میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دانشور کا لقب اس شخص کو دیتے ہیں جو دین پر بحث کرتا ہے، لیکن یہ دانش نہیں بلکہ نقصان ہے۔ انسان جب حقیقت سے آشنا ہوتا ہے، تب اسے اپنے ان جھوٹوں کا اندازہ ہوتا ہے جو وہ اپنی زندگی بھر خود سے بولتا رہا۔ یہ حقائق اس وقت کھلنا شروع ہوتے ہیں جب موت کا لمحہ قریب آتا ہے اور انسان کو اپنی ایک ایک غلطی نظر آنے لگتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذاتی، خاندانی اور معاشرتی تمام مسائل کا حل قرآن کریم میں موجود ہے۔ ہمیں صرف قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ زندگی کے ہر شعبے میں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے اور اگر ہمیں یہ سمجھ آ جائے کہ راہِ ہدایت صرف قرآن و سنت میں ہے تو دنیا و آخرت کی کامیابی ممکن ہو جائے گی۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ زندگی کا اصل مقصد اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہے۔ آپ ﷺ امام الانبیاء ہیں، آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ہم اللہ کی رحمت کو صرف دنیاوی ضروریات کی تکمیل کے تناظر میں دیکھتے ہیں، حالانکہ ہمارا پیدا ہونا بھی اسی رحمت کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے حد و حساب ہے اور نبی اکرم ﷺ کی ذات مبارکہ سراپا رحمت ہے۔
اختتام پر امیر عبدالقدیر اعوان نے ملکی سلامتی، اتحادِ امت، اور اسلام کی سربلندی کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی۔



