جہلم میں غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز دوبارہ کھل گئے، انتظامیہ کی خاموشی پر شہری سراپا احتجاج

جہلم: عید الاضحی کے بعد ضلع جہلم میں غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز نے دوبارہ سرگرمیاں شروع کر دی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کے سنگین مسائل پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں و دیہاتوں میں درجنوں قصاب غیر قانونی طور پر گوشت فروخت کر رہے ہیں۔ حالانکہ سرکاری طور پر صرف ضلع ہیڈ کوارٹر کے علاقے محلہ اسلام پورہ میں ایک منظور شدہ سلاٹر ہاؤس قائم ہے۔ اس کے باوجود متعدد قصاب اپنی حویلیوں، گھروں اور حتیٰ کہ سڑک کنارے بھی جانور ذبح کر رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ان غیرقانونی ذبح خانوں میں نہ صرف صحت کے اصولوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے بلکہ لاغر اور بیمار مادہ جانوروں کو بھی ذبح کر کے فروخت کیا جا رہا ہے، جو کہ انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ پنجاب حکومت کی جانب سے عائد سخت پابندیوں کے باوجود ہو رہا ہے۔ نیز، گوشت کی فروخت میں من مانی قیمتیں بھی شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی نہ صرف ان غیرقانونی سرگرمیوں کی پشت پناہی کے مترادف ہے بلکہ یہ صحتِ عامہ کے لیے ایک خطرناک غفلت بھی ہے۔ مقامی آبادی نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری کارروائی کرے، غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز کو بند کیا جائے، اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ شہریوں کو محفوظ، معیاری اور مقررہ نرخ پر گوشت کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔



