جہلم کا مرکزی قبرستان آوارہ کتوں اور نشئیوں کی آماجگاہ بن گیا

جہلم شہر کا قدیمی اور مرکزی قبرستان، جو طویل عرصے سے اہلِ ایمان کے لیے دعا، فاتحہ خوانی اور روحانی سکون کا مرکز تھا، اب میونسپل کمیٹی کی عدم توجہی کے باعث آوارہ کتوں اور نشے کے عادی افراد کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ شہریوں، خاص طور پر بزرگ افراد، خواتین اور بچوں کو قبرستان آنے میں شدید خوف اور عدم تحفظ کا سامنا ہے۔

فجر اور مغرب کے بعد کا وقت قبرستان میں جانے والوں کے لیے ایک بھیانک تجربہ بن چکا ہے۔ آوارہ کتوں کی یلغار کے باعث کئی افراد فاتحہ خوانی کے ارادے سے آ کر واپس لوٹ جاتے ہیں، جبکہ رات کے اوقات میں نشئی افراد قبرستان میں نشہ کرتے، شور مچاتے اور بدتمیزی کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے قبرستان کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔

شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاتحہ کے لیے آنے والے افراد کی عزتِ نفس مجروح ہو رہی ہے، جبکہ کسی قسم کی سیکیورٹی یا صفائی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میونسپل کمیٹی اور قبرستان انتظامیہ کی بے حسی نے حالات کو سنگین بنا دیا ہے۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے قبرستان کو آوارہ کتوں سے پاک کیا جائے، نشئیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے اور قبرستان کی صفائی، روشنیاں اور سیکیورٹی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں تاکہ شہری سکون اور وقار کے ساتھ اپنے مرحومین کی قبروں پر دعا کے لیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button