بھارت کی پانی چھوڑنے کی دھمکی، منگلا ڈیم پر الرٹ جاری، ایمرجنسی نافذ

منگلا: بھارت کی جانب سے چار لاکھ کیوسک پانی چھوڑنے کی ممکنہ دھمکی کے بعد منگلا ڈیم انتظامیہ اور ضلعی حکام نے ہنگامی اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے ایمرجنسی نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جبکہ مساجد کے ذریعے عوام کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے اعلانات بھی کروائے جا رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمے الرٹ ہیں اور ریسکیو ادارے، مقامی انتظامیہ اور واپڈا حکام مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ڈیم کے اطراف کے نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق اگر بھارت کی جانب سے پانی چھوڑا جاتا ہے تو منگلا کے آس پاس کے علاقے شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
حالیہ بارشوں اور گلیشئیرز کے پگھلنے کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، جہاں پانی کی آمد 3 لاکھ 40 ہزار کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 20 ہزار کیوسک ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ کالا باغ پر پانی کی آمد 3 لاکھ 32 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 24 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ پر آمد 3 لاکھ 63 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 57 ہزار کیوسک ہے۔
چشمہ کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 40 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 20 ہزار کیوسک، جبکہ تربیلا میں بہاؤ 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی، جہلم اور ستلج میں پانی کا بہاؤ اس وقت نارمل سطح پر ہے، جبکہ دریائے چناب کے مرالہ، قادر آباد اور تریموں کے مقامات پر بھی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 22 سے 24 جولائی کے دوران پنجاب کے بڑے دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فی الوقت پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔



