ضلع جہلم میں جھوٹے مقدمات درج کروانے والے خود ساختہ سفید پوشوں کےخلاف شکنجہ تیار

جہلم: ضلع جہلم پولیس نے جھوٹے مقدمات درج کروانے والے خود ساختہ سفید پوش افراد کے خلاف کارروائی کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کر لی ہے۔

اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت اقدامات کرتے ہوئے پولیس نے ایسے مدعیان کو قانون کی گرفت میں لانا شروع کر دیا ہے جو ذاتی مفادات یا مالی لالچ کے لیے جھوٹے مقدمات درج کرواتے رہے۔

پولیس کے مطابق ضلع کے متعدد تھانوں میں درجنوں سے زائد مقدمات ایسے افراد کے خلاف درج کیے گئے جنہوں نے جنسی درندگی، عزت لوٹنے یا دیگر سنگین الزامات لگا کر سفید پوش شہریوں کو فریب میں ڈال کر مقدمات درج کروائے۔

تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ان مقدمات کا اصل مقصد ذاتی فائدہ یا مالی منفعت حاصل کرنا تھا۔ مقدمات درج ہونے کے بعد جب مقاصد حاصل ہو جاتے، تو یہی مدعیان راضی نامہ کروا لیتے یا کیسز دبوا دیتے۔

اب پولیس نے اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کی سیکشن 22 کے تحت ان خود ساختہ مدعیان کو خود ملزم بنا کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس اقدام سے جھوٹے مقدمات درج کروانے کے رجحان کو سخت دھچکا لگے گا اور سفید پوش شہریوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹے الزامات لگانے کا سلسلہ ختم ہو گا۔

شہری حلقوں نے پولیس کے اس فیصلے کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات انصاف کی بحالی کے ساتھ ساتھ سماجی برائیوں کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم طارق عزیز سندھو نے بھی اس موقع پر واضح کیا کہ قانون کی گرفت میں کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور ہر جھوٹے مدعی کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button