اشٹام پیپر پالیسی میں تبدیلی، کم عمر طلبہ شدید مشکلات کا شکار

جہلم: حکومت کی جانب سے اشٹام پیپر پالیسی میں حالیہ تبدیلی نے کم عمر طلبہ و طالبات کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

ریونیو بورڈ کی نئی پالیسی کے تحت اب اشٹام پیپر صرف اسی شخص کو جاری کیا جا رہا ہے جس کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ موبائل نمبر درج ہو، اور اس نمبر پر موصول ہونے والے او ٹی پی (OTP) کے اندراج کے بعد ہی اشٹام پیپر جاری کیا جاتا ہے۔

اس اقدام سے جہاں جعلی اشٹام پیپرز کے مسئلے کو کسی حد تک حل کرنے کی توقع ہے، وہیں 18 سال سے کم عمر طلبہ و طالبات کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ طلبہ کے مطابق ڈومیسائل کے اجراء کے لیے 300 روپے کا اشٹام پیپر لازمی قرار دیا گیا ہے، جو نئی پالیسی کے باعث کم عمر طلبہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

اسی طرح پنجاب بھر میں ہزاروں طلبہ و طالبات مختلف اسکالرشپس کے لیے اپلائی کرتے ہیں، جہاں 100 روپے کے اشٹام پیپر کی شرط لازمی ہوتی ہے، لیکن کم عمر ہونے کی وجہ سے وہ اس سہولت سے بھی فی الحال محروم ہیں۔

طلبہ و طالبات نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ زیر تعلیم طلبہ کے لیے اس پالیسی میں نرمی کی جائے تاکہ وہ ڈومیسائل اور اسکالرشپس جیسے ضروری مواقع سے محروم نہ رہیں اور اپنی تعلیمی سرگرمیاں بغیر رکاوٹ کے جاری رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button