جہلم میں محنت کشوں کا استحصال، کم از کم تنخواہ پر عمل درآمد نہ ہو سکا

جہلم: صوبائی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم 40 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر جہلم شہر اور گرد و نواح میں عمل درآمد نہ ہو سکا۔

محکمہ لیبر ضلع جہلم کی عدم دلچسپی کے باعث مزدور بدستور استحصال کا شکار ہیں۔ ضلع بھر میں محنت کش مہنگائی کے اس پرفتن دور میں بھی صرف 15 سے 25 ہزار روپے ماہانہ میں گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔

مزدوروں کا کہنا ہے کہ اتنی قلیل آمدنی میں گھریلو اخراجات، تعلیم اور علاج معالجہ چلانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔

سماجی اور عوامی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے واضح احکامات کے باوجود محکمہ لیبر نے اس حوالے سے مکمل چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے، جس کے باعث سفید پوش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی شخصیات نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور چیف سیکرٹری پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزدوروں کو ان کا جائز حق دلایا جا سکے اور ان کے بچوں کو محنت مزدوری کے بجائے تعلیم کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button