جہلم کا سیاسی معرکہ؛ ن لیگ کے چار دھڑے اور پی ٹی آئی کا ابھرتا دباؤ

جہلم کی سیاست آنے والے بلدیاتی انتخابات میں ایک نئے موڑ پر داخل ہونے جا رہی ہے۔ یہ انتخاب محض بلدیاتی اداروں کی بحالی نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

مسلم لیگ (ن) جو کبھی جہلم کی پہچان اور طاقت کی علامت ہوا کرتی تھی، اب اپنے ہی اندر چار مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ یہ چاروں دھڑے نوابزادہ گروپ، فرخ الطاف گروپ، گھرمالہ گروپ اور بلال اظہر کیانی گروپ اپنی اپنی سمتوں میں متحرک ہوں گے اور یہی تقسیم آنے والے دنوں میں ن لیگ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو گی۔

نوابزادہ گروپ اپنی روایتی سیاسی جڑوں اور خاندانی اثر و رسوخ کے بل بوتے پر میدان میں اترے گا۔ ان کی سیاست ہمیشہ مقامی سطح پر عوامی روابط اور برادری کے تانے بانے سے جڑی رہی ہے۔ فرخ الطاف گروپ اپنی سیاسی تجربہ کاری کے ساتھ متحرک ہو گا، جو جہلم کے سیاسی منظرنامے میں ایک مضبوط کردار ادا کر سکتا ہے۔

گھرمالہ گروپ اپنی تیز حکمتِ عملی اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلائے گا، جبکہ بلال اظہر کیانی گروپ نوجوان قیادت اور جدید طرزِ سیاست کی نمائندگی کرتے ہوئے نئے ووٹرز کو متوجہ کرنے کی کوشش کرے گا۔

دوسری جانب تحریکِ انصاف اپنی صوبائی سطح کی کامیابی کے بعد بلدیاتی میدان میں بھرپور انداز میں اترے گی۔ تین صوبائی نشستوں پر اپنی جیت نے اسے جہلم میں ایک مستحکم سیاسی حیثیت دی ہے اور اب وہ اسی اعتماد کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی۔

پی ٹی آئی کی مہم زیادہ جارحانہ اور منظم ہو گی، کیونکہ اس کے پاس ایک متحرک ووٹ بینک اور صوبائی سطح پر کام کرنے والی ٹیم پہلے سے موجود ہے۔ ن لیگ کے اندرونی اختلافات پی ٹی آئی کے لیے موقع فراہم کریں گے کہ وہ نچلی سطح پر عوامی رابطوں کو بڑھا کر خود کو متبادل قیادت کے طور پر پیش کرے۔

ن لیگ کی قسمت کا دارومدار آنے والے دنوں میں اس بات پر ہو گا کہ کیا اس کے چاروں دھڑے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو سکیں گے یا نہیں۔ اگر قیادت نے اختلافات ختم کر کے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا تو ن لیگ ایک بار پھر جہلم کی سیاست میں اپنی پرانی شان واپس لا سکے گی۔ لیکن اگر انا، دھڑوں کی سیاست اور قیادت سے فاصلہ برقرار رہا تو یہی تقسیم اس کے لیے شکست کا باعث بنے گی۔

جہلم کے عوام اس بار نظریاتی سیاست سے زیادہ کارکردگی، تنظیم اور قیادت کے انداز کو دیکھیں گے۔ وہ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کون سا گروہ صرف وعدوں سے نہیں بلکہ عملی منصوبے اور مقامی نمائندگی کے جذبے سے لیس ہو کر میدان میں اترتا ہے۔ آنے والے انتخابات میں ن لیگ کے لیے اتحاد، پی ٹی آئی کے لیے تسلسل اور عوام کے لیے فیصلہ تینوں اپنی اپنی اہمیت رکھتے ہوں گے۔

بلدیاتی معرکہ جب شروع ہو گا تو جہلم کی فضاؤں میں ایک بار پھر سیاسی گہماگہمی ہو گی۔ ن لیگ اپنے دھڑوں کو جوڑنے کی کوشش کرے گی، پی ٹی آئی اپنی جیت کو وسعت دینے کے لیے نکلے گی اور عوام یہ دیکھیں گے کہ کس جماعت کے قدم مضبوطی سے زمین پر جما رہیں گے۔ آنے والے دنوں میں جہلم کی سیاست کا نقشہ بدلے گا، سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کس کے حق میں جائے گی۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button