جہلم کے اہم مقامات کے قریب گرین الیکٹرک بس سروس کے سٹاپس قائم نہ کئے جا سکے

جہلم: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے عوامی سہولت منصوبوں کے باوجود ضلع جہلم میں گرین الیکٹرک بس سروس کے لیے ضلع کچہری، پروفیسر کالونی اور خواتین کالج کے قریب سٹاپ نہ ہونے کی وجہ سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

ضلع کچہری روزانہ سینکڑوں سائلین کی آمد و رفت کا مرکز ہے، تاہم معمر شہریوں کو دور دراز کے سٹاپ سے پیدل چلنا پڑتا ہے۔ خواتین کالج کی طالبات غیر محفوظ مقامات سے بس لینے پر مجبور ہیں جبکہ پروفیسر کالونی کے رہائشیوں کو سفری دشواریوں کا سامنا ہے۔ بارش اور شدید دھوپ میں بس سروس کے لیے کھلے عام کھڑے ہونا شہریوں کے لیے روزمرہ کی مجبوری بن چکا ہے۔

مزید براں خواتین اور بزرگ شہریوں کے لیے بیٹھنے کی کوئی سہولت موجود نہیں، جس کے باعث ٹریفک کی بے ترتیبی اور حادثات کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری دفاتر آنے والے افراد کی وقت اور توانائی ضائع ہو رہی ہے اور گرین بس منصوبے کا اصل مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو اس وقت مکمل طور پر پورا نہیں ہو رہا۔

قریبی علاقوں میں سٹاپ موجود ہونے کے باوجود ضلع کچہری، خواتین کالج اور پروفیسر کالونی کے قریب نظرانداز کیا گیا ہے اور شہریوں کی متعدد درخواستوں کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ فوری سٹاپ کی تعمیر سے روزانہ ہزاروں شہری مستفید ہو سکتے ہیں۔

جہلم کے شہریوں نے وفاقی وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈنگی پلی کے مقام پر گرین الیکٹرک بس سٹاپ قائم کیا جائے تاکہ ضلع کچہری، خواتین کالج اور ضلع کونسل دفتر سمیت دیگر سرکاری اداروں میں آنے والے شہریوں کی سفری مشکلات میں واضح کمی لائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button