کالج ٹیچنگ انٹرنز کے بقایاجات کی ادائیگی میں تاخیر، چار ماہ گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہ ہو سکا

9
پڑی درویزہ / سوہاوہ: چار ماہ قبل کالج ٹیچنگ انٹرنز کے بقایاجات کا معاملہ اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھایا گیا تھا، تاہم تاحال اس پر کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث متاثرہ اساتذہ شدید ذہنی و معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب بھر کے سات سو سے زائد پبلک سیکٹر کالجوں میں لیکچرر، اسسٹنٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی ہزاروں خالی آسامیوں پر گزشتہ 17 برسوں سے عارضی، ٹھیکے یا معاہدے کی بنیاد پر “کالج ٹیچنگ انٹرنز” کے نام سے اساتذہ کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس نظام کے تحت ہر تعلیمی سیشن کے آغاز پر ماسٹر ڈگری کے حامل افراد کو محدود مدت کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے جبکہ سیشن کے اختتام پر ان کی ملازمت ختم کر دی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبہ بھر میں کئی سابق کالج ٹیچنگ انٹرنز کو مختلف وجوہات کی بنا پر ان کا معاوضہ بروقت ادا نہ کیا جا سکا، جو تاحال واجب الادا ہے۔ چند ماہ قبل سیکریٹری ہائر ایجوکیشن صوبہ پنجاب کی جانب سے تمام سرکاری کالجوں سے سی ٹی آئیز کے بقایاجات کی تفصیلات طلب کی گئیں، اور بعد ازاں ہر ماہ کالج انتظامیہ سے اس حوالے سے ریکارڈ بھی مانگا جاتا رہا، مگر اس کے باوجود بقایاجات کی ادائیگی کے لیے کوئی خاطر خواہ عملی اقدام سامنے نہیں آ سکا۔
متاثرہ کالج ٹیچنگ انٹرنز کا کہنا ہے کہ وہ تدریسی خدمات انجام دے کر نظامِ تعلیم کو سہارا دیتے رہے، مگر آج وہ اپنے جائز حق کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی حالات پہلے ہی مشکل ہیں اور بقایاجات کی عدم ادائیگی نے ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
بقایا جات کے منتظر سی ٹی آئیز کی اکثریت نے پرنٹ میڈیا کے ذریعے سیکریٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ’’مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کی جائے‘‘ کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کی سنگینی کو سمجھا جائے۔
انہوں نے اپیل کی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکریٹری ہائر ایجوکیشن صوبہ پنجاب فوری طور پر کالج ٹیچنگ انٹرنز کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ تدریس سے وابستہ ان محنت کشوں کا معاشی مسئلہ حل ہو سکے اور وہ سکھ کا سانس لے سکیں۔



