جہلم میں محکمہ اوقاف کی کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی بااثر عناصر سے واگزار

1
جہلم شہر کے عین وسط میں واقع محکمہ اوقاف کی قیمتی اراضی جو کئی دہائیوں سے بااثر افراد کے قبضے میں تھی، بالآخر محکمہ اوقاف کی سخت اور بروقت قانونی کارروائی کے نتیجہ میں واگزار کروا دی گئی۔
اراضی اب باقاعدہ لیز ہولڈر وحید اکرم میر کے حوالے کر دی گئی ہے، جنہوں نے فوری طور پر دو کنال اراضی پر چار دیواری کی تعمیر کا آغاز کر دیا تاکہ مستقبل میں کسی بھی غیر قانونی مداخلت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اہلِ محلہ کی جانب سے طویل عرصے سے اراضی پر ناجائز قبضہ کیا جا رہا تھا، جس سے نہ صرف حکومتی ریکارڈ متاثر ہو رہا تھا بلکہ ریاستی رِٹ بھی مسلسل چیلنج ہو رہی تھی۔ لیز ہولڈر وحید اکرم میر نے متعدد بار قانونی اور پرامن طریقے سے اراضی واگزار کروانے کی کوشش کی، تاہم بااثر عناصر کی پشت پناہی کے باعث انہیں شدید مشکلات اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ اوقاف نے معاملے کا سخت نوٹس لیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری کارروائی کے لیے رجوع کیا۔ گزشتہ روز ایک بھرپور آپریشن کے دوران پولیس فورس، پیرا فورس اور محکمہ مال کے افسران نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تمام غیر قانونی قبضے ختم کروا دیے اور اراضی مکمل طور پر لیز ہولڈر وحید اکرم میر کے حوالے کر دی گئی۔
اس موقع پر وحید اکرم میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر طارق عزیز سندھو اور محکمہ اوقاف کے متعلقہ افسران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ریاستی اداروں کی بروقت اور فیصلہ کن کارروائی نے واضح کر دیا ہے کہ سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والوں کے لیے اب کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل چار دیواری کی تعمیر کے لیے رکھے گئے سامان کو نامعلوم افراد نے چوری کر لیا، جس پر محکمہ اوقاف کو درخواست دی گئی تاکہ سرکاری سطح پر کارروائی کرتے ہوئے سامان برآمد کروا کر ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انتظامیہ نے واضح کیا کہ یہ کارروائی صرف ایک مثال ہے اور آئندہ بھی سرکاری و اوقاف کی اراضی پر ناجائز قبضے کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ عوام کو خبردار کیا گیا کہ سرکاری زمین پر قبضہ نہ صرف قابلِ سزا جرم ہے بلکہ ایسے اقدامات سے جیل، بھاری جرمانے اور مستقل قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



