تاریخ ساز مہنگائی، کرب اور بے یقینی کے سائے تلے سال 2025 رخصت، 2026 سے محتاط امیدیں وابستہ

1
جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں سال 2025 تاریخ ساز مہنگائی، معاشی دباؤ، ذہنی اذیت اور بے یقینی کی تلخ یادیں چھوڑ کر رخصت ہو گیا، تاہم نئے سال 2026 کے آغاز پر بھی عام آدمی کے لیے حالات میں فوری بہتری کی کوئی واضح علامت نظر نہیں آ رہی۔ مہنگائی کے ہوشربا طوفان نے متوسط اور سفید پوش طبقے کو زندہ رہنے کی جدوجہد میں مبتلا کر دیا، جہاں جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا بھی کسی امتحان سے کم نہ رہا۔
ایک عوامی سروے میں جہلم کے شہریوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے تاریخ ساز سختیوں کی بھرمار نے مہنگائی کے گراف کو آسمان تک پہنچا دیا۔ شہریوں کے مطابق دسمبر میں موٹر سائیکل سواروں اور ڈرائیورز کے اچانک چالانوں نے غریب اور سفید پوش طبقے سے جینے کی ہمت بھی چھین لی۔ جان بچانے والی ادویات، اشیائے خوردونوش، چینی، گھی، دالیں، چکن اور گوشت کی قیمتوں میں بے لگام اضافے، بجلی اور سوئی گیس کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور مادر پدر آزاد نرخوں نے سال 2025 کو عوام کے لیے ایک اذیت ناک یاد بنا دیا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ سال بھر ریلیف کے اعلانات اور طفل تسلیاں تو ملتی رہیں، مگر عملی طور پر کہیں بھی خاطر خواہ ریلیف دکھائی نہ دیا۔ محدود آمدن میں سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ ایک وقت کا سادہ کھانا اب چھپر ہوٹل یا ڈھابے پر بھی 200 روپے سے کم میں دستیاب نہیں، چائے کا کپ 60 روپے جبکہ دودھ پتی 100 روپے تک فروخت ہو رہی ہے، جس کے باعث عام آدمی کے لیے باہر کھانا یا محض چائے پینا بھی آزمائش بن چکا ہے۔
ماہانہ گھریلو اخراجات میں بے تحاشا اضافے نے ہر دوسرے فرد کو ذہنی اور نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ ادویات کی خریداری عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہوتی جا رہی ہے۔ شہریوں کے مطابق آمدن کی شرح کے مقابلے میں مہنگائی میں ہوشربا اضافے نے فاقہ کشیوں، شدید ذہنی تناؤ اور بعض مقامات پر خودکشی جیسے المناک واقعات کو بھی جنم دیا، جو معاشرتی سطح پر ایک خطرناک اشارہ ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے سال 2026 میں مہنگائی کے حقیقی کنٹرول، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے استحکام، بجلی و گیس کی بلا تعطل فراہمی اور سفید پوش طبقے کے لیے مؤثر ریلیف پیکجز متعارف کروائے جائیں، تاکہ عوام کو سکھ کا سانس مل سکے اور نئے سال سے وابستہ محتاط امیدیں عملی اقدامات میں ڈھل سکیں۔



