سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی لنڈا بازار خاصہ گرم، سستے کپڑے بھی مہنگائی کی لپیٹ میں

7
جہلم: سردی کی شدت میں مسلسل اضافے کے ساتھ ہی جہلم شہر کے اندرونِ شہر قائم لنڈا بازار ایک بار پھر عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
موسمِ سرما کے عروج پر پہنچنے کے ساتھ ہی شہریوں کی بڑی تعداد نے مہنگے ملبوسات سے بچنے کے لیے سستے کپڑوں اور جوتوں کی خریداری کی غرض سے لنڈا بازاروں کا رخ کر لیا ہے۔ بازار میں خاص طور پر خواتین کا رش نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اب لنڈے میں بھی مہنگائی نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں۔
جہلم شہر کے مختلف علاقوں میں لگنے والے لنڈا بازاروں میں رش تو بڑھ گیا ہے، لیکن قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے خریداروں کو شدید مایوسی سے دوچار کر دیا ہے۔ مہنگائی سے ستائے عوام کا کہنا ہے کہ وہ نئے کپڑے یا جوتے خریدنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، اسی لیے مجبوراً سیکنڈ ہینڈ اشیاء کی طرف رجوع کر رہے ہیں، مگر یہاں بھی صورتحال حوصلہ افزا نہیں رہی۔
خریداری کے لیے آنے والی خواتین نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سردی ابھی مکمل عروج پر بھی نہیں پہنچی، اس کے باوجود لنڈا بازار میں وہی اشیاء جو پہلے 50 یا 100 روپے میں دستیاب ہوتی تھیں، اب 400 سے 500 روپے سے کم میں نہیں ملتیں۔ بعض نسبتاً صاف ستھرے اور بہتر ملبوسات کے تو دکاندار دو، دو ہزار روپے تک مانگ رہے ہیں۔ خواتین کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے سفید پوش طبقے کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور اب تو سستے بازار بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب لنڈا بازار کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ بھی حالات سے مجبور ہیں۔ دکانداروں کے مطابق اس مرتبہ کنٹینرز کے کرایے اور درآمدی اخراجات پہلے کی نسبت تین گنا تک بڑھ چکے ہیں، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خریدار اکثر بحث کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کپڑے مفت یا انتہائی کم قیمت پر ملنے چاہئیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی لاگت میں کاروبار چلانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔
دکانداروں کا مزید کہنا تھا کہ حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں اور اب سیکنڈ ہینڈ اشیاء کی خرید و فروخت بھی منافع بخش نہیں رہی۔ مہنگائی کے اس طوفان نے نہ صرف خریداروں بلکہ چھوٹے دکانداروں کو بھی شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
شہریوں اور دکانداروں دونوں کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں عام آدمی کے لیے گرم کپڑے خریدنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا، اور سرد موسم میں غریب اور سفید پوش طبقہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔



