مضبوط بلدیاتی نظام ہی عوامی مسائل کا حل، پنجاب حکومت کا بلدیاتی قانون کالا قانون ہے، ڈاکٹر قاسم محمود

9
جہلم: ڈاکٹر قاسم محمود چوہدری نے کہا کہ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے بنایا گیا نیا بلدیاتی قانون ایک کالا قانون ہے اور حکومت اپنی ناقص کارکردگی کے باعث بلدیاتی انتخابات کروانے سے گریزاں ہے۔
جماعت اسلامی ضلع جہلم کے امیر ڈاکٹر قاسم محمود چوہدری نے جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ جہلم پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں پنجاب حکومت نے ایک ایسا بلدیاتی قانون منظور کیا ہے جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس قانون کے تحت چیئرمین، وائس چیئرمین سمیت متعدد نشستوں کا انتخاب براہِ راست نہیں ہوگا، جس سے عوام کو ان کا بنیادی جمہوری حق نہیں مل سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کروائے جا رہے ہیں، جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ حکومت اپنی کارکردگی کے ساتھ عوام کے سامنے آنے سے خوفزدہ ہے۔
ڈاکٹر قاسم محمود چوہدری نے مزید کہا کہ جس طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ہارس ٹریڈنگ کی جاتی ہے، حکومت اب وہی طریقہ کار گلی محلوں کی سطح پر اپنانا چاہتی ہے اور لوگوں کی خرید و فروخت کا ارادہ رکھتی ہے، جو جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی ادارے عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کا واحد ذریعہ ہوتے ہیں، لیکن موجودہ قانون کے تحت یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت فوری طور پر اس بلدیاتی قانون پر نظرثانی کرے، بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر اور براہِ راست ووٹنگ کے ذریعے کرائے جائیں تاکہ حقیقی معنوں میں عوامی نمائندگی اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ممکن ہو سکے۔



