جہلم میں تندوروں پر کھلی گراں فروشی، سرکاری نرخ نظر انداز، شہری سراپا احتجاج

جہلم شہر اور گردونواح میں تندوروں اور نانبائیوں نے آٹے اور میدے کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر من مانے نرخ مقرر کر لیے ہیں۔

سرکاری طور پر 14 روپے فی 100 گرام مقررہ روٹی اب 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے جبکہ نان کی قیمت میں بھی خودساختہ اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے اس کھلی گراں فروشی پر تاحال کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث شہری لالچی تندور مالکان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری نرخ نامے موجود بھی ہیں تو ان پر کہیں عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی میں غریب اور سفید پوش طبقہ پہلے ہی بجلی، گیس اور دیگر بنیادی اخراجات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں روٹی جیسی بنیادی خوراک کا مہنگا ہو جانا ان کے لیے ناقابلِ برداشت بن چکا ہے۔ کئی گھرانوں کے لیے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنا بھی ایک کڑا امتحان بن گیا ہے۔

متاثرہ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں، تمام تندوروں پر سرکاری نرخ نامے آویزاں کروائیں، ان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور گراں فروشی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جب روٹی جیسی بنیادی ضرورت بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہو جائے تو یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی ناانصافی بن جاتی ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کم از کم اتنا تو ثابت کرے کہ وہ اپنے کمزور اور بے آواز شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button