رمضان کی آمد سے قبل منافع خور اور ذخیرہ اندوز متحرک، اشیائے خوردونوش مہنگی، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس غائب

جہلم شہر سمیت گرد و نواح میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اشیائے خوردونوش ذخیرہ کر کے مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم موجودگی نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس پر عوام سراپا احتجاج ہیں۔
کریانہ مرچنٹس کی مبینہ ملی بھگت سے دالیں، مصالحہ جات، چاول اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء ذخیرہ کر کے من مانے ریٹس پر فروخت کی جا رہی ہیں، جس کے باعث مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر دکاندار نے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر رکھے ہیں اور سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
شہری حلقوں کے مطابق پہلے ہی فروٹ، سبزی اور گوشت فروش من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں، اب اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والے دکانداروں نے بھی منافع خوری کا قانون نافذ کر رکھا ہے۔ ضلع بھر میں سرکاری نرخنامے مذاق بن کر رہ گئے ہیں، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس صرف چھوٹے دکانداروں کے خلاف علامتی کارروائیاں کر کے سب اچھا ہے کی رپورٹس ارسال کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑے تاجر اور ذخیرہ اندوز بلاخوف اپنی الگ بادشاہت قائم کیے ہوئے ہیں اور کھلے عام من مانے نرخوں پر اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔



