منشیات کیس میں جرم ثابت ہونے پر منشیات فروش کو 14 سال قید اور جرمانے کی سزا

دینہ: منشیات کیس میں جرم ثابت ہونے پر منشیات فروش کو 14 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی عدالت نے منشیات کے مقدمہ نمبر 75/24 بجرم CNSA 9(i)3D تھانہ دینہ کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں جرم ثابت ہونے پر منشیات فروش کو سخت سزا سنائی گئی ہے۔
مجرم محمد منصور سلیم نے سال 2024 میں منشیات فروشی کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد معزز عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو 14 سال قید اور 4 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنانے کا حکم دیا۔
ترجمان جہلم پولیس کے مطابق جہلم پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجرم کو ٹریس کر کے گرفتار کیا، ٹھوس شواہد اکٹھے کیے اور مضبوط چالان کے ساتھ مقدمہ عدالت میں پیش کیا۔ مقدمے کی مؤثر پیروی کے نتیجے میں عدالت نے مجرم کو قرار واقعی سزا سنائی۔
اس موقع پر طارق عزیز سندھو نے کہا کہ منشیات فروش معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کے مکمل خاتمے کے لیے جہلم پولیس کا بھرپور کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔ انہوں نے منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ڈی پی او جہلم نے مقدمے کی کامیاب پیروی پر انوسٹیگیشن اور لیگل ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی اور تعریفی سرٹیفکیٹس اور نقد انعامات دینے کا اعلان بھی کیا، تاکہ فورس میں مزید حوصلہ افزائی اور پیشہ ورانہ جذبہ پیدا کیا جا سکے۔



