جہلم میں نوجوان بینک ملازم کے قتل کیس کی تفتیش میں تاخیر پر سنگین سوالات

جہلم میں نوجوان بینک ملازم کے قتل کیس کی تفتیش میں تاخیر پر سنگین سوالات اٹھنے لگے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے نعمان مصطفیٰ نامی نوجوان شہری جاں بحق ہو گیا تھا۔ مقتول ایم سی بی بینک میں بطور کسٹمر سروس آفیسر (CSO) فرائض انجام دے رہا تھا اور ایک ذمہ دار، پرامن اور محنتی شہری کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس اندوہناک واقعے نے نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ پورے علاقے کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔
واقعے کو پانچ ہفتوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال تفتیش میں کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ نہ کسی مشتبہ شخص کی باقاعدہ شناخت ہو سکی ہے اور نہ ہی کسی گرفتاری کی اطلاع دی گئی ہے، جس کے باعث مقتول کے اہلِ خانہ اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق قتل کا یہ واقعہ ایک نسبتاً سنسان مقام پر پیش آیا، تاہم قریبی مرکزی شاہراہوں پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی کے باوجود تفتیشی ادارے اب تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں میں کچھ شواہد سامنے آنے کی بات کی گئی تھی، مگر بعد ازاں کیس کی پیش رفت غیر واضح اور سست روی کا شکار ہو گئی۔
مقتول نعمان مصطفیٰ کے لواحقین کے مطابق انہوں نے متعدد بار متعلقہ تھانے اور تفتیشی افسران سے رابطہ کیا، تاہم انہیں تفتیش کی موجودہ صورتحال، حاصل کردہ شواہد یا آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں کوئی واضح اور تفصیلی بریفنگ فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اس غیر یقینی صورتحال نے ان کے غم اور ذہنی اذیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ نہ صرف ملزمان کی گرفتاری میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے بلکہ تفتیشی عمل میں شفافیت کا فقدان بھی نمایاں ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق انہیں یہ تک نہیں بتایا جا رہا کہ کن افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے، کون سے تکنیکی شواہد—جیسے سی سی ٹی وی فوٹیج اور کال ڈیٹا—حاصل یا تجزیہ کیے گئے ہیں، اور مقدمہ اس وقت کس مرحلے میں ہے۔
قانونی ماہرین اور عوامی تحفظ کے امور سے وابستہ حلقوں کے مطابق قتل جیسے سنگین مقدمات میں ابتدائی دن نہایت اہم ہوتے ہیں۔ بروقت کارروائی نہ ہونے کی صورت میں اہم شواہد ضائع ہونے اور ملزمان تک پہنچنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس میں تفتیشی تاخیر نے نہ صرف پولیس کی کارکردگی بلکہ مجموعی احتسابی نظام پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقتول کے اہلِ خانہ نے ضلعی اور صوبائی سطح کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نعمان مصطفیٰ کے قتل کیس کی فوری ازسرِنو جانچ کی جائے، تفتیش کی اب تک کی پیش رفت سے تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، تمام دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیجز اور تکنیکی شواہد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے، اور ضرورت پڑنے پر مقدمہ کسی سینئر اور تجربہ کار تفتیشی افسر یا خصوصی ٹیم کے سپرد کیا جائے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی یہ اپیل صرف اپنے پیارے کے لیے انصاف کے حصول تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال رکھنا بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک عام اور بے گناہ شہری کے قتل پر بروقت اور شفاف انصاف فراہم نہ کیا جا سکا تو یہ معاشرے کے لیے ایک تشویشناک مثال ثابت ہو گی۔
تاحال یہ مقدمہ حل طلب ہے اور یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سنگین جرائم کی تفتیش میں تاخیر نہ صرف انصاف کے عمل کو متاثر کرتی ہے بلکہ متاثرہ خاندانوں کو طویل ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ عوامی حلقے اور مقتول کے اہلِ خانہ اس کیس میں فوری، شفاف اور مؤثر کارروائی کے منتظر ہیں۔



