جہلم میں مہنگائی کا جن بے قابو، گوشت اور چینی سمیت اشیائے خورونوش عوام کی پہنچ سے باہر

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں مہنگائی بے قابو ہو گئی ہے جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ گوشت، چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے سے غریب عوام شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔

جہلم شہر اور گردونواح کے بازاروں میں دکاندار اور قصاب من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں جبکہ سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا۔ شہریوں کے مطابق بکرے کا گوشت 2200 سے 2400 روپے فی کلو جبکہ بڑا گوشت 1200 سے 1400 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے جس کے باعث یہ اشیا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا خریدنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ گھی، تیل، آٹا، دالیں، سبزیاں، پھل اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

دیہی علاقوں میں چینی کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں اور کئی جگہوں پر چینی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ بازاروں میں غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیا کی فروخت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جس کے باعث لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

شہریوں کے مطابق متعلقہ محکموں کی جانب سے چیکنگ کا نظام انتہائی کمزور ہے جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی زیادہ تر کارروائیاں صرف کاغذی دعووں اور فوٹو سیشن تک محدود نظر آتی ہیں۔

عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری زراعت اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ قصابوں اور دکانداروں کی باقاعدہ چیکنگ کی جائے، سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور ملاوٹ شدہ و غیر معیاری اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا یہ طوفان غریب عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دے گا اور عام آدمی کے لیے بنیادی ضروریات زندگی کا حصول بھی ناممکن ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button