جہلم میں زمین کے لین دین کے لیے اب "گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ” لازمی قرار

جہلم: ضلعی انتظامیہ جہلم نے عوام کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 30 جون 2026 کے بعد پرانے فرد (ریکارڈ) کی بنیاد پر زمین کی خرید و فروخت یا انتقال ممکن نہیں ہوگا، جبکہ نئی پالیسی کے تحت "گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ” کا حصول لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق حکومت پنجاب کی ہدایات پر زمینوں کے ریکارڈ کو جدید اور شفاف بنانے کے لیے پلس پروگرام کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں صرف وہی مالکان زمین کی منتقلی کے اہل ہوں گے جنہوں نے اپنی زمین کی تقسیم کا عمل مکمل کر لیا ہوگا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جائیداد کے نظام کو آسان، شفاف اور قانونی پیچیدگیوں سے پاک بنانا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی قانونی دشواری سے بچنے کے لیے فوری طور پر پلس پروگرام کے تحت اپنی زمینوں کی تقسیم کا عمل مکمل کروائیں اور گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔
ضلعی انتظامیہ جہلم نے مزید کہا ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد کسی بھی پرانے ریکارڈ پر انتقال کی اجازت نہیں ہوگی، لہٰذا تمام شہری بروقت اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔



