اتباعِ رسول ﷺ اور سچی توبہ ہی نجات کا راستہ ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ ہم ایمانی طور پر اس حد تک کمزور ہو چکے ہیں کہ غلطیاں ہمارے مزاج کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ انسان کو اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنا ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ سچے دل سے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔

وہ جمعۃ المبارک کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ جو اپنی عبادات پر نہیں بلکہ ربِ کریم کی رحمت اور ذات پر بھروسہ رکھتے ہیں انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ متقین کے لیے جو جنت تیار کی گئی ہے اس کی وسعت کا تصور بھی انسان نہیں کر سکتا۔ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اختیار کی۔

انہوں نے کہا کہ بندہ مومن کا ظاہر اور باطن دونوں پاک ہوتے ہیں اور اس کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔ افسوس کہ آج ہمارا دعویٰ ایمان اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ لوگ ہم پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی بڑی تیزی سے گزر رہی ہے، اس لیے ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ اگر ہم نے اپنی اصلاح نہ کی تو زندگی پریشانیوں اور غفلت میں گزر جائے گی اور معلوم بھی نہیں ہوگا کہ سانسوں کی مہلت کب ختم ہو گئی۔

امیر عبدالقدیر اعوان کا کہنا تھا کہ اصل کامیابی اپنی ذات کی نفی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ہے۔ تکبر اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، جبکہ تقویٰ انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری کوتاہیوں کو معاف کرے اور سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔

خطاب کے اختتام پر امیر عبدالقدیر اعوان نے ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے خصوصی اجتماعی دعا بھی کروائی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button