اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا ہی حقیقی انفاق فی سبیل اللہ ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ اللہ کریم نے کسی بندۂ مومن کو جو ہنر، صلاحیت یا اوصاف عطا کیے ہیں، اگر وہ انہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے استعمال کرے تو یہ بھی انفاق فی سبیل اللہ کے زمرے میں آتا ہے۔ اسلام انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔

جمعۃ المبارک کے روز اپنے خطاب میں شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ اور سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ جب کوئی مومن زکوٰۃ، صدقات، عشر یا دیگر صورتوں میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو درحقیقت وہ اس حقیقت کا اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ یہ مال اس کا ذاتی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور جو کچھ اس کے پاس ہے وہ سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بہت سے ممالک اسلام کے نام پر قائم ہیں لیکن وہاں اسلامی قوانین اور اسلامی طرزِ حکمرانی پوری طرح نافذ نہیں۔ اگر کوئی فرد انفرادی طور پر اسلام نافذ کرنے کا دعویٰ کرے تو یہ فساد کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس اختیار اور اقتدار ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدل و انصاف قائم کریں، لوگوں کو تحفظ فراہم کریں اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اسلام ہمیں صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی انصاف اور حسنِ سلوک کا درس دیتا ہے۔ کسی کے ساتھ زیادتی یا ناانصافی روا نہیں رکھی جا سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تقویٰ ایک کیفیت کا نام ہے اور متقی وہ شخص ہوتا ہے جو اس کیفیت کا حامل ہو۔ متقی کی اہم صفات میں یہ شامل ہے کہ وہ خوشحالی ہو یا تنگدستی، ہر حال میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے۔ دوسری اہم صفت یہ ہے کہ جب اسے غصہ آئے تو وہ اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے، معاف کرتا ہے اور درگزر سے کام لیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور اگر اپنے اندر کسی قسم کی کمی یا کمزوری محسوس ہو تو اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح شعور، فہمِ دین اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

خطاب کے اختتام پر حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے خصوصی اجتماعی دعا بھی کرائی۔

انہوں نے بتایا کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اویسیہ کے زیر اہتمام 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع جاری ہے، جس میں ملک بھر اور بیرونِ ممالک سے سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے شریک ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس اجتماع میں شرکاء کو ایک منظم تربیتی پروگرام کے تحت روحانی و اخلاقی تربیت فراہم کی جاتی ہے جبکہ روزانہ صبح 11 بجے "صحبتِ شیخ” کے پروگرام میں خصوصی خطاب کیا جائے گا۔

انہوں نے اہلِ ایمان کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس روحانی اجتماع میں شرکت کر کے اپنے قلوب کو برکاتِ نبوت ﷺ سے منور کریں اور اصلاحِ نفس و تزکیۂ قلب کی نعمت حاصل کریں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button