جہلم میں قصابوں کی من مانی، سرکاری نرخ نظر انداز، شہری مہنگے گوشت کی خریداری پر مجبور

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں قصابوں کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کے مقرر کردہ نرخوں کو مبینہ طور پر نظر انداز کرتے ہوئے گوشت من مانے داموں فروخت کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گائے کے گوشت اور بکرے کے گوشت کے لیے سرکاری نرخ مقرر کیے گئے ہیں، تاہم بیشتر قصاب ان نرخوں پر عملدرآمد کرنے کے بجائے اپنی مرضی کے ریٹ وصول کر رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق گائے کا گوشت سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ بکرے کے گوشت کی قیمت بھی مقررہ نرخوں سے تجاوز کر چکی ہے۔

شہریوں نے شکایت کی ہے کہ کئی علاقوں میں قصاب سرکاری نرخ نامہ نمایاں جگہ پر آویزاں نہیں کرتے اور بعض اوقات چیکنگ کے دوران ہی ریٹ لسٹیں ظاہر کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گوشت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گوشت کی خریداری کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

عوامی حلقوں کے مطابق مہنگائی کے موجودہ دور میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث گھریلو بجٹ پہلے ہی شدید متاثر ہو چکا ہے، جبکہ گوشت کی من مانی قیمتوں نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پرائس کنٹرول کے ذمہ دار اداروں اور متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث قصابوں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے، جس سے صارفین کا استحصال جاری ہے۔

علاقہ مکینوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک کیا جائے اور ضلع بھر میں سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خلاف ورزی کے مرتکب عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور مہنگائی کے اس دور میں انہیں مزید مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو گوشت کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button