معاشرے کی اصلاح کے لیے نیت کا اخلاص اور حق پر استقامت ناگزیر ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ معاشرے میں غلطیوں اور برائیوں میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ اس کے نتیجے میں اجتماعی زندگی مشکلات اور بے سکونی کا شکار ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح گندگی کے ڈھیر سے تعفن اور بدبو پھیلتی ہے، اسی طرح اخلاقی برائیاں بھی معاشرے کو آلودہ کر دیتی ہیں، اس لیے ہر فرد کو اپنے قول و فعل اور نیت کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
جمعۃ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ اور سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے کہا کہ انسان کو اپنی عملی زندگی کا مسلسل جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے اعمال کے پیچھے نیت کیا ہے۔ کیا وہ صرف اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے کام کر رہا ہے یا اس کی کوششوں کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلوص اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور موجودہ حالات میں صفائے قلب کی اشد ضرورت ہے تاکہ انسان کے اعمال، خیالات اور نیت ہر لحاظ سے درست ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں مختلف حالات آتے رہتے ہیں، کبھی اپنے بیگانے ہو جاتے ہیں اور کبھی اجنبی اپنے محسوس ہونے لگتے ہیں، خوشیاں غم میں اور تکلیفیں مسکراہٹ میں بدل جاتی ہیں، لیکن ایسے تمام حالات میں حق کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ انسان کو اپنے تعلقات صرف دنیاوی مفادات یا امیدوں کی بنیاد پر قائم نہیں کرنے چاہییں بلکہ اپنی تمام امیدوں کا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات کو بنانا چاہیے۔ جب بندے کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ ہر معاملے میں سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور زندگی کے ہر پہلو میں یہ جاننے کی خواہش رکھتا ہے کہ اس بارے میں رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کیا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ بندے کو ایسی کیفیت عطا فرمائے کہ اسے یقین ہو جائے کہ کائنات میں ہر اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہے۔ خواہشات عارضی ہوتی ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔ انہوں نے حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب لوگ آپ ﷺ کو دیکھے بغیر بھی آپ ﷺ سے بے پناہ محبت کریں گے اور آپ ﷺ پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم نسبت اور محبتِ رسول ﷺ کی حقیقت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
خطاب کے اختتام پر امیر عبدالقدیر اعوان نے پاکستان کی سلامتی، استحکام، بقا، امتِ مسلمہ کی فلاح اور عالمِ اسلام میں امن و خوشحالی کے لیے خصوصی اجتماعی دعا بھی کرائی۔



