گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی، پنجاب بھر میں نیا نظام نافذ

جہلم: پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA) اور بورڈ آف ریونیو حکومتِ پنجاب نے منصوبہ برائے اصلاحِ نظامِ اراضی کے تحت یکم جولائی سے جہلم سمیت صوبہ بھر میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر زمین اور جائیداد کے ہر قسم کے لین دین پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نئے نظام کے نفاذ کے ساتھ ہی فرد برائے بیع اور دیگر روایتی دستاویزات کی بنیاد پر انتقالات اور خرید و فروخت کا طریقہ کار ختم کر دیا گیا ہے۔

حکومت پنجاب نے اراضی کے لین دین کو مزید شفاف، محفوظ اور جدید بنانے کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اب زمین یا جائیداد کی خرید و فروخت، انتقال اور دیگر متعلقہ معاملات صرف گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر انجام دیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد عوام کی جائیداد کی ملکیت اور حقوق کا تحفظ، خرید و فروخت کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا، جعلسازی، بوگس دستاویزات اور فراڈ کی روک تھام کرنا ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ اور قابلِ اعتماد نظام میسر آ سکے۔

پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ تقریباً 486 سالہ روایتی نظامِ اراضی میں یہ ایک تاریخی اصلاح ہے، جس سے زمینوں کے ریکارڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے، شفافیت بڑھانے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

حکام نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے میں اراضی کے نظام کو ڈیجیٹل اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بروقت، محفوظ اور شفاف خدمات فراہم کی جا سکیں اور ترقی و خوشحالی کے سفر کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button