دینہ کا تاریخی ریلوے اسٹیشن عدم توجہی کا شکار، شہری ٹرین کی سفری سہولیات سے تقریباً محروم

دینہ: تحصیل دینہ کا تاریخی ریلوے اسٹیشن مبینہ طور پر طویل عرصے سے حکومتی عدم توجہی کا شکار ہونے کے باعث اپنی سابقہ رونقیں کھوتا جا رہا ہے، جبکہ ٹرینوں کے محدود ٹھہراؤ کے باعث تحصیل دینہ اور گردونواح کے مکین ریلوے کی سستی اور محفوظ سفری سہولیات سے بڑی حد تک محروم ہیں۔

تفصیلات کے مطابق قیامِ پاکستان سے قبل قائم ہونے والا دینہ ریلوے اسٹیشن ماضی میں مسافروں کی چہل پہل کا مرکز ہوا کرتا تھا اور دینہ شہر سمیت گردونواح کے درجنوں دیہات کے مکینوں کو ریل کے ذریعے نسبتاً سستی سفری سہولت میسر تھی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اسٹیشن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے سہولیات میں اضافہ ہونا چاہیے تھا، مگر اس کے برعکس اسٹیشن کی رونقیں ماند پڑتی گئیں اور عمارت و دیگر حصے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

مقامی شہریوں کے مطابق اس وقت دینہ ریلوے اسٹیشن پر صرف دو مسافر ٹرینوں کا ٹھہراؤ ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں مسافر ریل کے سفر سے استفادہ نہیں کر پاتے اور انہیں متبادل ذرائع آمدورفت اختیار کرنا پڑتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران دینہ اور اس کے گردونواح کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ریلوے اسٹیشن کے اطراف بڑی رہائشی آبادیاں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم ہو چکی ہیں جبکہ تجارتی مراکز اور مارکیٹوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ گردونواح کے دیہات کی آبادی بڑھنے سے سفری ضروریات پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ہو چکی ہیں۔

مکینوں نے وفاقی وزیر ریلوے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دینہ ریلوے اسٹیشن کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے، اس کی تزئین و آرائش اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور مسافروں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید مسافر ٹرینوں کے اسٹاپ بحال کیے جائیں تاکہ تاریخی ریلوے اسٹیشن کی رونقیں دوبارہ بحال ہوں اور دینہ سمیت گردونواح کے ہزاروں شہری ریلوے کی سفری سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button