جہلم میں بیوٹیفیکیشن کے نام پر جاری ترقیاتی کام تاجروں کے لیے دردِ سر بن گئے

جہلم شہر میں بیوٹیفیکیشن کے نام پر گزشتہ ایک سال سے جاری ترقیاتی و تعمیراتی کام تاجر برادری اور شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن گئے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ تین ماہ میں مکمل کیے جانے والے کام کو ایک سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر میں خوبصورتی کے منصوبے کے تحت گزشتہ سال شروع ہونے والے مختلف تعمیراتی کام تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔ تاجروں کے مطابق کام کی سست روی اور مبینہ عدم توجہی کے باعث سڑکوں، دکانوں اور کاروباری مراکز کے اطراف تعمیراتی سرگرمیاں طویل عرصے سے جاری ہیں، جس سے دکانداروں کے ساتھ ساتھ خریداری کے لیے آنے والے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بیوٹیفیکیشن کے نام پر کروڑوں روپے کی خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے، تاہم جاری کام کے معیار اور رفتار پر متعدد سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر مبینہ طور پر ناقص تعمیراتی مٹیریل استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ کام کی رفتار انتہائی سست ہے۔
دوسری جانب تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل شروع ہونے والا تعمیراتی کام تاحال مکمل نہ ہونے سے ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ تعمیراتی کام کے باعث دکانوں تک گاہکوں کی رسائی، آمدورفت اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، جس سے انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تاجر برادری نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بیوٹیفیکیشن منصوبے کے تعمیراتی کام کا فوری جائزہ لیا جائے، معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور کام کو مزید تاخیر کے بغیر مکمل کیا جائے تاکہ تاجروں اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی ممکن ہو سکے۔



