کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے نئی شرائط عائد، ٹیکس ادائیگی تک این او سی جاری نہیں ہوگا

جہلم: پنجاب حکومت نے جہلم سمیت صوبہ بھر میں کوڑا ٹیکس کی وصولی یقینی بنانے کے لیے شہریوں پر نئی شرائط عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت کوڑا ٹیکس کی ادائیگی تک متعلقہ شہریوں کو این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔ اس سے قبل این او سی کا اجرا صرف پراپرٹی ٹیکس کی کلیئرنس سے مشروط تھا، تاہم اب سینی ٹیشن کی مد میں واجب الادا رقم کی ادائیگی بھی لازمی قرار دی جا رہی ہے۔
ایکسائز ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز کو کوڑا ٹیکس کی وصولی کا ٹاسک ملنے کے بعد سینی ٹیشن فیس کی ادائیگی بھی یقینی بنانے کے لیے یہ نئی شرط عائد کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت شہریوں کو این او سی کے حصول کے لیے پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ ساتھ کوڑا ٹیکس کی ادائیگی بھی کرنا ہوگی۔
حکام کے مطابق پنجاب بھر میں 50 لاکھ سے زائد پراپرٹیز سے مختلف مدات میں ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جبکہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس سمیت دیگر محصولات کی وصولی کا عمل بھی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کوڑا ٹیکس کی مد میں 40 ارب روپے جبکہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 2 ارب روپے سے زائد وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کوڑا ٹیکس کی وصولی کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے محکمہ ایکسائز کی جانب سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایکسائز ذرائع کا کہنا ہے کہ این او سی کو کوڑا ٹیکس کی ادائیگی سے مشروط کرنے کے فیصلے پر رواں ماہ سے عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا، جس کے بعد ٹیکس واجبات کی کلیئرنس کے بغیر این او سی کے اجرا میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کوڑا ٹیکس اور سینی ٹیشن کی مد میں واجب الادا رقوم کی بروقت وصولی کو یقینی بنانا اور محکمہ ایکسائز کے مقررہ ریونیو اہداف حاصل کرنا ہے۔



