جہلم میں جی ٹی روڈ پر اسپیڈ بریکرز شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے لگے، حادثات کا خدشہ

جہلم کے مرکزی جی ٹی روڈ پر مختلف مقامات پر اسپیڈ بریکرز کی تنصیب کے بعد ٹریفک حادثات کے حوالے سے شہریوں اور مسافروں میں مختلف آراء سامنے آنے لگی ہیں۔

مقامی سطح پر موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان اسپیڈ بریکرز کے باعث گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے کے واقعات پیش آ رہے ہیں، جن کے نتیجے میں گاڑیوں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر ٹریفک کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

شہریوں کے مطابق مقامی ڈرائیورز جی ٹی روڈ پر اسپیڈ بریکرز کے مقامات سے واقف ہونے کے باعث اپنی گاڑیوں کی رفتار کم کر لیتے ہیں، تاہم راولپنڈی سے لاہور یا دیگر شہروں کی جانب سفر کرنے والے ڈرائیورز کو بعض مقامات پر اسپیڈ بریکرز کی موجودگی کا بروقت اندازہ نہیں ہو پاتا۔ ایسی صورتحال میں جب آگے چلنے والی گاڑی اچانک بریک لگاتی ہے تو پیچھے سے آنے والی گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں دو، تین یا اس سے زائد گاڑیوں کے حادثات کا سامنا کرنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

آج پیش آنے والا حادثہ بھی تشویش کا باعث بنا، جس میں اطلاعات کے مطابق تین گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں اور تینوں کو خاصا نقصان پہنچا۔ اگرچہ ان واقعات میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم گاڑیوں کی مرمت اور دیگر اخراجات کی صورت میں شہریوں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اسپیڈ بریکرز کی مناسب نشاندہی اور ڈرائیورز کو پیشگی آگاہ کرنے کے انتظامات موجود ہوں تو ایسے حادثات کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب بعض شہری جی ٹی روڈ پر ٹریفک کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو مثبت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ سڑک پر پہلے موجود غیر ضروری یوٹرنز اور بعض مقامات پر موٹر سائیکل سواروں سمیت دیگر افراد کے سڑک عبور کرنے کے باعث حادثات کا خدشہ رہتا تھا۔ ایسے مقامات پر یوٹرنز بند کرنا اور ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے اقدامات کرنا قابلِ تحسین ہے۔ ان شہریوں کے مطابق، اسپیڈ بریکرز نصب کرنے کا مقصد بھی گاڑیوں کی رفتار کم کرکے حادثات کی شدت اور جانی نقصان کے امکانات کو کم کرنا ہو سکتا ہے۔

تاہم اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا قومی شاہراہ پر اسپیڈ بریکرز کی موجودہ تنصیب مقررہ تکنیکی معیار، ٹریفک سیفٹی کے اصولوں اور متعلقہ قوانین کے مطابق ہے؟ اس سوال کا جواب محض عوامی آراء یا انفرادی مشاہدات کی بنیاد پر دینے کے بجائے متعلقہ ماہرین اور حکام کو موقع کا معائنہ کرنے، ٹریفک کے بہاؤ کا جائزہ لینے اور حادثات کے اعدادوشمار کی روشنی میں صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے۔

متعلقہ اداروں، ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور شاہراہ کی ذمہ دار اتھارٹی کو چاہیے کہ جی ٹی روڈ پر اسپیڈ بریکرز کے مقامات کا فوری معائنہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ اسپیڈ بریکرز کی واضح اور مناسب نشاندہی، نمایاں سائن بورڈز، رات کے وقت روشنی یا ریفلیکٹرز اور ڈرائیورز کو پہلے سے رفتار کم کرنے کی تنبیہ کے انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ اگر معائنے کے دوران اسپیڈ بریکرز کے ڈیزائن یا تنصیب میں کوئی تکنیکی خامی سامنے آئے تو اسے مقررہ معیار کے مطابق درست کیا جائے، تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر ہوئے بغیر مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

جہلم میں ٹریفک کو محفوظ بنانے، غیر ضروری یوٹرنز بند کرنے اور حادثات کی روک تھام کے لیے ضلعی انتظامیہ کی کوششیں قابلِ قدر ہیں، تاہم کسی بھی حفاظتی اقدام کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ اس سے حادثات میں کمی آئے، شہریوں کی جان و مال محفوظ رہے اور شاہراہ پر سفر کرنے والے مقامی و غیر مقامی ڈرائیورز کو یکساں سہولت میسر ہو۔

عوامی مفاد کا تقاضا ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور اسپیڈ بریکرز کی تنصیب سمیت ٹریفک کے انتظامات کا تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لے کر ایسا مؤثر، قانونی اور قابلِ عمل حل اختیار کریں جو ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے ساتھ ڈرائیورز کی حفاظت اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button