ڈومیلی میں ضمانت دینے کی رنجش پر بااثر شخص نے میاں بیوی کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

سوہاوہ: ڈومیلی کے نواحی علاقہ میں ضمانت دینے کی رنجش پر بااثر شخص نے میاں بیوی کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے تھانہ ڈومیلی کی حدود میں واقع نواحی علاقے پدھری کے گاؤں موٹھا موری میں ضمانت دینے کی رنجش پر ایک محنت کش کے گھر میں مبینہ طور پر زبردستی داخل ہو کر میاں بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً ایک ماہ قبل گاؤں موٹھا موری میں راستے کے تنازعے پر دو بھائیوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں ایک فریق سے تعلق رکھنے والے قیصر نامی شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ گزشتہ روز ہائی کورٹ سے قیصر کی ضمانت منظور ہوئی، جس کے لیے اسی گاؤں کے رہائشی محنت کش چوہدری شوکت نے ضمانت دی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ قیصر کی ضمانت منظور ہونے اور چوہدری شوکت کی جانب سے ضمانت دینے پر قیصر کے بھائی چوہدری اعجاز کا سالہ چوہدری الفت مبینہ طور پر مشتعل ہو گیا۔ الزام ہے کہ چوہدری الفت صبح سویرے چوہدری شوکت کے گھر میں زبردستی داخل ہوا اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر میں موجود چوہدری شوکت اور ان کی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے دونوں زخمی ہو گئے۔
واقعے کے دوران شور و غل سن کر اہلِ علاقہ موقع پر جمع ہو گئے، جس پر مبینہ حملہ آور وہاں سے فرار ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر تھانہ ڈومیلی پولیس کو دی گئی۔
اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ ڈومیلی ریاض بٹ پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ پولیس نے موقع سے ابتدائی شواہد اکٹھے کیے اور زخمی میاں بیوی کو طبی امداد اور معائنے کے لیے رورل ہیلتھ سنٹر ڈومیلی منتقل کر دیا۔
پولیس کے مطابق زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ موصول ہونے کے بعد مقدمے کے اندراج کے حوالے سے کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
متاثرہ محنت کش چوہدری شوکت نے پولیس کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں اس واقعے سے قبل بھی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، جس کے متعلق وہ تھانہ ڈومیلی میں تحریری درخواست جمع کروا چکے تھے۔ ان کے مطابق پہلے سے دی جانے والی دھمکیوں کے باوجود ان پر اور ان کی اہلیہ پر مبینہ حملہ کیا گیا، جس سے وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
متاثرہ خاندان نے ڈی پی او جہلم شفیق احمد چوہدری سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، گھر میں مبینہ طور پر زبردستی داخل ہونے، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور میاں بیوی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات کی غیر جانب دارانہ اور میرٹ پر تفتیش کی جائے۔
متاثرہ خاندان نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف کے ساتھ تحفظ بھی فراہم کیا جائے۔



