جہلم میں مہنگائی کا طوفان، پٹرولیم مصنوعات، سبزیاں، پھل، چکن اور دودھ دہی غریب اور سفید پوش طبقے کی پہنچ سے باہر

جہلم شہر اور گردونواح میں مہنگائی کا طوفان شدت اختیار کر گیا، جس کے باعث غریب، مزدور، دیہاڑی دار اور سفید پوش طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ پٹرول، ڈیزل، سبزیوں، پھلوں، چکن، دودھ اور دہی سمیت روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں نے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور گردونواح میں مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ شہریوں کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اشیائے خوردونوش، سبزیوں، پھلوں، چکن، دودھ اور دہی کے نرخ بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی مہنگائی کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی مبینہ طور پر من مانا اضافہ کیا گیا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ دیہاڑی دار مزدوروں، ملازمت پیشہ افراد، طلباء اور روزانہ سفر کرنے والے عام مسافروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ محدود آمدن رکھنے والے افراد کے لیے روزمرہ سفر کے اخراجات پورے کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
دوسری جانب سبزی و فروٹ منڈیوں میں آلو، پیاز، ٹماٹر، پالک، لہسن سمیت بنیادی استعمال کی سبزیوں اور موسمی پھلوں کی قیمتیں بھی عام شہریوں کی قوتِ خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ چکن، دودھ اور دہی کے بڑھتے نرخوں نے بھی گھریلو اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث کئی خاندان اپنی ضروریات محدود کرنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے باوجود روزمرہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ خصوصاً دیہاڑی دار مزدوروں اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے بچوں کی خوراک، گھر کا راشن، بجلی کے بل اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی کے باعث متعدد گھرانوں کو اپنے اخراجات میں کٹوتی کرنا پڑ رہی ہے۔
عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ پرائس کنٹرول حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی کی جائے، سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ شہریوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کی جانچ پڑتال اور ناجائز اضافے کی روک تھام کے لیے بھی فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غریب اور سفید پوش طبقے کو کچھ ریلیف مل سکے۔



