جہلم میں شدید سردی سے قبل ہی سوئی گیس کی قلت، شہریوں کو ہزاروں روپے کے بل موصول ہونے پر تشویش

جہلم کی شہری تنظیموں کے عمائدین نے سوئی گیس کی بدترین قلت اور بھاری بلوں کی وصولی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی شدید سردی کا آغاز بھی نہیں ہوا، لیکن شہر اور گردونواح میں سوئی گیس کی فراہمی پہلے ہی انتہائی محدود ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز انتظامیہ کی جانب سے صارفین کو ہزاروں روپے کے گیس بل بھجوائے جا رہے ہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

شہری تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ گیس کی عدم دستیابی کے باعث صارفین کو گھروں میں کھانا پکانے کے لیے مہنگے ایل پی جی سلنڈر خریدنے اور انہیں بار بار بھروانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سوئی گیس کے بھاری بل بھی ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس دوہرے مالی بوجھ نے پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں غریب خاندانوں کے لیے بچوں کو دو وقت کا کھانا فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بجلی، گیس، پانی، واسا اور ستھرا پنجاب سمیت مختلف مدات کے بلوں کی ادائیگی نے عام شہری کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

شہری عمائدین نے حکومت کی پالیسیوں اور گیس کی فراہمی کے انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ناقص حکمت عملی کے باعث مہنگائی نے غریب عوام کا جینا دشوار کر دیا ہے۔ انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ بھاری بلوں کے معاملے کا بھی فوری نوٹس لیا جائے، تاکہ غریب اور سفید پوش طبقہ اپنے بچوں کو کم از کم دو وقت کی روٹی، دال اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کر سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button