پنڈدادنخان: ضلع جہلم کی معروف کھیوڑہ سالٹ مائن تقریباً ایک ماہ سے عام سیاحوں اور وزٹرز کے لیے بند ہونے کے باعث ملک بھر سے آنے والے سیاح شدید مایوسی کا شکار ہیں اور کئی خاندان کانِ نمک دیکھے بغیر واپس لوٹنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کی کھیوڑہ سالٹ مائن میں پانی داخل ہونے کا مسئلہ گزشتہ کئی برس سے موجود ہے، تاہم اس مسئلے کے مستقل حل اور موثر حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مائن کی طویل بندش کے باعث نہ صرف سیاحوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ مقامی سطح پر سیاحت سے وابستہ کاروباری سرگرمیاں اور حکومتی آمدن بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
14 اگست یومِ آزادی کے موقع پر بھی ملک کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں سیاح کھیوڑہ سالٹ مائن پہنچے، تاہم مائن بند ہونے کے باعث متعدد خاندان اور سیاح مایوس ہو کر واپس لوٹ گئے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کھیوڑہ سالٹ مائن تحصیل پنڈدادنخان کی سیاحت اور مقامی معیشت کا اہم ستون ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کی وجہ سے مقامی ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، دکانوں اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملتا ہے، اس لیے مائن کی طویل بندش سے مقامی کاروباری طبقہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔
شہریوں اور عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کھیوڑہ سالٹ مائن کی ایک ماہ سے جاری بندش، پانی داخل ہونے کے مسئلے اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے شفاف انکوائری کرائی جائے۔ اگر کسی سطح پر غفلت یا کوتاہی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
عوامی حلقوں نے مزید مطالبہ کیا کہ مائن میں ضروری حفاظتی اقدامات اور پانی کے مسئلے کا مستقل حل یقینی بنانے کے بعد اسے جلد از جلد سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولا جائے تاکہ سیاحتی سرگرمیاں بحال ہوں اور مقامی کاروباری طبقے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
