دینہ کے سرکاری ویٹرنری ہسپتال میں ادویات کی شدید قلت اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث شہریوں اور مال مویشی پالنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتال میں جگہ جگہ گندگی اور غلاظت کے باعث بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں نے بعض ڈاکٹروں کی جانب سے سرکاری ادویات فراہم کرنے کے بجائے مخصوص نجی ہسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز سے ادویات خریدنے کے لیے تجویز کیے جانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق دینہ کے سرکاری ویٹرنری ہسپتال میں ادویات کی عدم دستیابی اور انتظامی غفلت کے باعث بیمار جانوروں کے علاج کے لیے آنے والے شہریوں اور مویشی پال کسانوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں اور مویشی مالکان کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے بیمار جانوروں کو علاج کے لیے سرکاری ہسپتال لاتے ہیں تو انہیں مطلوبہ سرکاری ادویات میسر نہیں ہوتیں، جس کے باعث انہیں بازار سے ادویات خریدنا پڑتی ہیں۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ہسپتال کے بعض ڈاکٹر جانوروں کے لیے ایسی ادویات تجویز کرتے ہیں جو مبینہ طور پر ان کے اپنے نجی ہسپتالوں یا مخصوص میڈیکل اسٹورز پر دستیاب ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ان مقامات سے ادویات مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس سے مویشی پال افراد پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
شہریوں کی جانب سے یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ بعض ایسی ادویات بھی نجی ہسپتالوں میں فروخت کی جا رہی ہیں جن پر واضح طور پر ’’برائے فروخت نہیں‘‘ (Sample – Not for Sale) درج ہوتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب ہسپتال میں صفائی کے ناقص انتظامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق ہسپتال کے مختلف حصوں میں گندگی اور غلاظت موجود ہے، جس سے نہ صرف وہاں آنے والے افراد کو پریشانی ہوتی ہے بلکہ ماحول میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال میں صفائی ستھرائی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں اور ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
سیاسی، عوامی، سماجی اور مذہبی حلقوں نے سیکرٹری لائیو اسٹاک پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک سے مطالبہ کیا ہے کہ دینہ کے سرکاری ویٹرنری ہسپتال کی صورتِ حال کا فوری نوٹس لیا جائے، ادویات کی قلت، صفائی کے انتظامات اور نجی اسٹورز سے ادویات تجویز کرنے کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور سرکاری ادویات کی فراہمی و تقسیم کے نظام کا جائزہ لیا جائے۔
شہریوں نے زور دیا ہے کہ سرکاری ہسپتال میں آنے والے مویشی پال کسانوں کو معیاری علاج اور ضروری ادویات کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ انہیں غیر ضروری اخراجات سے بچایا جا سکے اور سرکاری ویٹرنری ہسپتال پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
