پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام سے دھوکہ ہے، حکومت فوری ریلیف دے۔ ڈاکٹر قاسم محمود چوہدری

جہلم: ڈاکٹر قاسم محمود چوہدری نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔

جماعت اسلامی جہلم کے ضلعی امیر ڈاکٹر قاسم محمود چوہدری نے جہلم پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں معمولی اضافے پر بھی حکمران جماعتیں شدید ردعمل دیتی تھیں اور عوامی مشکلات کا ذکر کرتی تھیں، مگر آج انہی حلقوں کی جانب سے عوام پر مہنگائی کا بے پناہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رات کی تاریکی میں قیمتوں میں اضافہ کرنا عوام سے کھلا دھوکہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں معمولی تبدیلی پر بھی بڑے دعوے کیے جاتے تھے، جبکہ آج عوام مہنگی بجلی کے بلوں تلے دب چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹا، گھی اور چینی جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جس سے عام آدمی کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ڈاکٹر قاسم محمود چوہدری نے قومی اداروں کی نجکاری پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منافع بخش قومی ائیرلائن پی آئی اے کی مبینہ کم قیمت پر فروخت بدانتظامی کی واضح مثال ہے اور اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومتی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت کمزور اور عوام بدحال ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عام شہری دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے بھی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حکومت عوامی مسائل سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا بحران صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی مسائل کو بھی جنم دے رہا ہے، جس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

ضلعی امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر سطح پر عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے اور ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے لیے واضح حکمت عملی رکھتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے متحد ہوں تاکہ ایک منصفانہ اور فلاحی معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے رہنما ملک بھر میں پریس کانفرنسز کے ذریعے عوام کو درپیش مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے اثرات سے آگاہ کر رہے ہیں تاکہ عوام میں شعور بیدار کیا جا سکے۔

Exit mobile version