صادق خان کے دور میں یہودیوں کو خوفزدہ قرار دینے پر ٹوری امیدوار کو تنقید کا سامنا

لندن سے میئر صادق خان کےمقابل کنزرویٹو امیدوار کی جانب سے جاری کردہ اس بیان پر کہ صادق خان کے دور میں لندن میں یہودی خوفزدہ ماحول میں زندگی گزار رہےہیں۔

کنزرویٹو وزیر، لیبر مخالفین اور بورڈ آف ڈپٹیز نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میئر کی کنزرویٹو امیدوار سوسن ہال کا بیان حقائق کے منافی ہے لندن میں یہودی برادری امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔

انہوں نے سوسن ہال سے اپنے یہ ریمارکس واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے لیکن اس شدید ردعمل پر بھی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوسن ہال نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ میرے بہت سے یہودی دوست خوف کی وجہ سے لندن اور بہت سے برطانیہ ہی چھوڑ جانے پر غور کر رہے ہیں۔

مانچسٹر میں ٹوری پارٹی کی کانفرنس کے اختتام پر اسرائیل کے کنزرویٹو دوستوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سوسن ہال نے کہاکہ میں نارتھ لندن میں رہتی ہوں مجھے یہودی کمیونٹی کی دولت اور ان کی خوشیوں کا پتہ ہے لیکن میں کچھ اور کہنا چاہتی ہوں میں جانتی ہوں کہ صادق خان کے آمرانہ فیصلوں کی وجہ سے کمیونٹیز کے بعض لوگ کتنے خوفزدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں لندن کی میئر بن کر ہر شخص خاص طورپر یہودی کمیونٹی کو تحفظ فراہم کروں گی۔ اس لئے میں لندن کی ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کا مطالبہ کر رہی ہوں کیونکہ ہمیں ان کو شکست سے دوچار کرناہے۔

دوسری جانب بزنس منسٹر نصرت غنی نے کانفرنس کے ایک ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوف اور اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کنزرویٹو اقدار نہیں ہیں ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ بورڈ آف ڈپٹیز کی جانب سے اس بیان کی مذمت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کابیانیہ کام نہیں آئے گا کیونکہ عوام کی جانب سے جن کی آپ حمایت حاصل کرنا چاہتی ہیں اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔

لیبر پارٹی کی یہودی کی رکن ڈیم مارگریٹ نےکہا ہے کہ اس طرح کی سیاست مناسب نہیں ہے انہوں نے کہا کہ صادق خان ہمیشہ صہیونیت مخالفت ختم کرنے کی تلقین کرتے رہے ہیں۔ سوسن ہال کو فوری طور پر اپنے ریمارکس واپس لینے چاہیں۔

برطانوی یہودیوں کے بورڈ آف ڈپٹیز نے کہا ہے کہ صادق خان نے ہمیشہ ہماری کمیونٹی کے ساتھ دوستانہ اور احترام پر مبنی تعلقات رکھے ہیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی میئر کے امیدواروں کی مشترکہ دعوت کریں گے جہاں یہ ثابت ہو جائے گا کہ لندن کے یہودیوں کے سیاسی خیالات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن فی الوقت کوئی خوفزدہ نہیں ہے۔

سوسن ہال نے اپنے ریمارکس کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ لندن کے بارے میں بنائی گئی پالیسیوں کے معنی یہی ہیں کہ بہت سے یہودی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صادق خان کے میئر بننے کے بعدسے یہودیوں پرحملے کے واقعات دگنے ہو گئے ہیں۔

Exit mobile version