جہلم شہر کے کچہری چوک اور ڈنگی پلی کے مقامات پر اسکولوں اور کالجز کی چھٹی کے اوقات میں گاڑیوں، ویگنوں اور موٹر سائیکلوں کی بے ہنگم پارکنگ کے باعث ٹریفک جام روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ و طالبات، والدین اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تعلیمی اداروں میں چھٹی کے وقت بچوں کو لینے کے لیے آنے والی گاڑیوں، ویگنوں اور رکشوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر جمع ہو جاتی ہے۔ مناسب پارکنگ اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے مؤثر انتظامات نہ ہونے کے باعث شہر کے دیگر علاقوں سے آنے والی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی آمدورفت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا غیر معمولی رش ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور شہریوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کے مطابق اسکولوں اور کالجز کی چھٹی کے اوقات میں ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ خصوصاً طالبات اور کم عمر بچوں کے سڑک عبور کرنے کے دوران حادثات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ بعض اوقات گاڑیوں کی غلط پارکنگ کے باعث سڑک پر گزرنے کے لیے مناسب جگہ باقی نہیں رہتی، جس سے دوسری جانب سے آنے والی ٹریفک بھی پھنس جاتی ہے اور ٹریفک کی روانی مزید متاثر ہوتی ہے۔
عوامی حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ٹریفک پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ کچہری چوک، ڈنگی پلی اور دیگر ایسے مقامات پر واقع اسکولوں اور کالجز کے باہر چھٹی کے اوقات میں ٹریفک پولیس کے افسران اور اہلکاروں کو تعینات کیا جائے تاکہ ٹریفک کو منظم انداز میں رواں رکھا جا سکے۔
شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے باہر گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات سے نہ صرف طلبہ و طالبات کی حفاظت یقینی بنائی جا سکتی ہے بلکہ ٹریفک جام کے باعث شہریوں کو درپیش روزمرہ مشکلات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔
