دینہ: ملک بھر اور ضلع بھر کی طرح دینہ میں بھی مہنگی بجلی اور ٹیکسوں کیخلاف مکمل شٹر ڈاؤن، تمام کاروبار زندگی بری طرح مفلوج رہی، انجمن تاجران کی کال پر منگلا روڈ، مین بازار، داتا روڈ، جی ٹی روڈ اور ریلوے روڈ مکمل طور پر بند رہا۔ دینہ کی تاریخ میں پہلی بار مکمل شٹر ڈاؤن دیکھنے میں آیا۔ میڈیکل سٹور، بیکرز، دودھ دہی والے بھی ہڑتال میں شامل ہو ئے۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح ضلع جہلم کی تحصیل دینہ میں انجمن تاجران کی کال پر پورے شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی، تمام بازار اور مارکیٹیں بند رہیں۔ منگلا روڈ، مین بازار، داتا روڈ، جی ٹی روڈ اور ریلوے روڈ کے تاجروں نے یکجاں ہو کر شٹر ڈاؤن رکھا۔
دینہ کی تاریخ میں پہلی بار کامیاب ہڑتال دیکھنے میں آئی۔ میڈیکل سٹور ، بیکرز ، دودھ دہی کی دوکانیں بھی مکمل طور پر بند رہیں۔
اس موقع پر انجمن تاجران کے صدر چوہدری محبوب احمد، جنرل سیکرٹری میاں ہارون، امجد محمود سیٹھی، میاں سجاد، الیاس ڈار، محمد یاسر زرگر نے میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ حکومت تاجر دوست ٹیکس کے نام پر تاجروں پر جو ظالمانہ ٹیکس لگایا جارہا ہے وہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ آج کی ہڑتال نے ثابت کر دیا ہے کہ تاجر ا پنے حقوق کا تحفظ کرنا جانتے ہیں اور دینہ کے تاجروں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے پہلی بار ہڑتال کو کامیاب بنایا ، حکومت تاجروں پر رحم کرے اور ظالمانہ فیصلہ واپس لے ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس ظالمانہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لے، تاجر دوست ٹیکس کے نام پر تاجروں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ دوکاندار حضرات پہلے ہی بجلی کے بلوں سمیت دیگر ٹیکسوں کی بھر مار سے پسے ہوئے ہیں اب رہی سہی کسر تاجر دوست ٹیکس کے نام سے تاجر برادری اور غریب دوکاندار حضرات سے روٹی کا نوالہ چھیننے کے برابر ہے۔
تاجروں نے کہا کہ خدا رائے حکومت تاجروں پر رحم کرے اور فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے ورنہ ہڑتالوں کا سلسلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہے گا۔ ہم اپنے دینہ کی تاجر برادری کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ایک کال پر آج پورا دینہ شہر کو بند کر دیا ہے، انشاء اللہ ہم مشکل وقت میں بھی اپنے دوکاندار حضرات کے ساتھ کھڑے رہیں گے ۔
