جہلم: حکومت پنجاب نے رشوت ستانی کی روک تھام کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والے سرکاری ملازمین کو دوبارہ ملازمت پر بحال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے رشوت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کے تناظر میں اس فیصلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم دوسری جانب عوامی مسائل کے حل اور کرپشن کے خاتمے کے لیے منعقد کی جانے والی کھلی کچہریوں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مختلف محکموں کی جانب سے منعقد کی جانے والی کھلی کچہریاں عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے بجائے اکثر اوقات محض رسمی کارروائی اور فوٹوسیشن تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔ شہری حلقوں کے مطابق متعدد کھلی کچہریوں کے انعقاد کے باوجود نہ تو عوامی مسائل مکمل طور پر حل ہو سکے اور نہ ہی رشوت ستانی کے رجحان پر قابو پانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کو کھلی کچہریوں کے انعقاد کا فیصلہ کرتے وقت متعلقہ محکموں کے ضلعی سربراہان کو اس بات کا پابند کرنا چاہیے تھا کہ ہر کھلی کچہری میں موصول ہونے والی درخواستوں، ان پر ہونے والی کارروائی اور حل کیے جانے والے مسائل کی تفصیلات باقاعدگی سے عوام کے سامنے پیش کی جائیں، تاکہ کھلی کچہریوں کی افادیت اور کارکردگی کا عملی طور پر جائزہ لیا جا سکے۔
اس حوالے سے جہلم میں اینٹی کرپشن کی جانب سے منعقد کی جانے والی کھلی کچہری کو بھی بطور مثال پیش کیا جا رہا ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق اس کھلی کچہری کے انعقاد سے قبل خاصا تشہیری شور تھا، تاہم اس کے عملی نتائج سامنے نہ آنے کی وجہ سے اس کی افادیت پر سوالات پیدا ہوئے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ بداعتمادی کی فضا کے باعث کھلی کچہری میں ایک سائل جبکہ دیگر افراد کی موجودگی بھی قابلِ توجہ رہی۔ سائل سے درخواست وصول کی گئی اور اسے کارروائی کی امید پر رکھا گیا۔
دوسری جانب اینٹی کرپشن کے ذریعے کسی سرکاری ملازم کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کی موجودگی میں رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرنا ایسا قانونی طریقہ کار ہے جس کی شفافیت اور مؤثر کارروائی کے حوالے سے انگلی اٹھانا مشکل ہوتا ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق رشوت ستانی کے خلاف اس طریقۂ کار کا تسلسل برقرار رہنا انتہائی ضروری ہے، تاکہ سرکاری اداروں میں کرپشن کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
عوامی حلقوں کے مطابق ماضی میں ایسے متعدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں جن میں رشوت لیتے ہوئے گرفتار ہونے والے بااثر افسران یا ملازمین مختصر عرصے بعد ضمانت پر رہا ہو کر دوبارہ اپنی ڈیوٹیوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے کرپشن کے خلاف کارروائی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور بعض عناصر کو یہ تاثر ملتا ہے کہ رشوت ستانی کے باوجود ملازمت اور سرکاری عہدہ برقرار رہ سکتا ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والے سرکاری ملازمین کو دوبارہ ملازمت پر بحال نہ کرنے کا فیصلہ اسی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے پر بلاامتیاز اور مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے تو سرکاری اداروں میں رشوت ستانی کی حوصلہ شکنی میں مدد مل سکتی ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ رشوت ستانی کے خلاف کیے گئے فیصلوں پر عملی اور مستقل بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اینٹی کرپشن کی کارروائیوں کو مؤثر بنایا جائے اور کھلی کچہریوں میں موصول ہونے والی شکایات اور ان پر ہونے والی پیش رفت کو بھی عوام کے سامنے لایا جائے، تاکہ شہریوں کا سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہو اور کرپشن کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حقیقی نتائج سامنے آ سکیں۔
